صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 61 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 61

صحيح البخاری جلدم ۶۱ ۳۴- كتاب البيوع فَعَمِلَتْ لَهُ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو ( تو بے شک بنوالو۔) الْجُمُعَةِ قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ) حضرت جابر نے کہا: ) پھر اُس نے آپ کے لئے وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ الَّذِي صُنِعَ منبر تیار کر وایا۔جب جمعہ کا دن ہوا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ اُس منبر پر جو بنوایا گیا تھا بیٹھے تو وہ کھجور جس کے عِنْدَهَا حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَنْشَقَّ فَنَزَلَ قریب آپ پہلے (لوگوں کو ) خطبہ دیا کرتے تھے، النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى چلائی، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ پھٹ جائے۔تب أَخَذَهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ فَجَعَلَتْ تَين في صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر اس پر ہاتھ رکھا۔پھر أَنِيْنَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكِّتُ حَتَّى اپنے سینے سے لگایا، تو وہ اُس معصوم بچے کی طرح رونے لگی جسے چپ کرایا جاتا ہے۔یہاں تک کہ اسْتَقَرَّتْ قَالَ: بَكَتْ عَلَى مَا كَانَتْ اُسے قرار آیا۔آنحضرت نے فرمایا: یہ اُس ذکر کی وجہ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ۔اطرافه: ٤٤٩ ٩١٨، ٣٥٨٤ ٣٥٨٥ سے روئی جو وہ سنتی تھی۔تشریح : فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ عِندَهَا : یہ روایات کتاب الصلاة میں بھی گذر چکی ہیں۔(دیکھئے کتاب الصلاة باب (۶۴/۱۸ مگر قدرے اختلاف کے ساتھ لفظی اختلاف کے باوجود صحت سند کے اعتبار سے یہ روایت صحیح ہے اور درایت کے اعتبار سے اس کا جوصل مولا نا روم رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے، وہی درست اور حقیقت نما ہے۔آپ فرماتے ہیں:- فلسفی گو منکر حنا نه است از حواس انبیاء بیگانه است فلسفی جو دل گداز ( تند کھجور) کا انکاری ہے۔انبیاء کے حواس سے بیگانہ ہے۔لفظ حتان عربی میں گداخت قلب و رقت جذبات پر اطلاق پاتا ہے۔اسی سے حنا نہ اسم وصفی مشتق ہے۔جس سے مراد وہ تنہ کھجور ہے جس کے ساتھ سہارا لے کر آنحضرت علی رقت آمیز وعظ و نصیحت سے خطبہ جمعہ میں صحابہ کرام کو مخاطب فرمایا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ نے ایک دن درس صحیح بخاری کے اثناء میں یہ روایت پڑھاتے وقت مجھ سے فرمایا: ” نور الدین سے بھی ایک دفعہ ایک درخت ہم کلام ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی مکالمہ جمادات کا ذکر کیا ہے۔آپ نے فرمایا: چند روز ہوئے ہم نے دیکھا کہ اُس روڑی پر جو گلی کے سرے پر ہے، ایک کوٹھا ( کمرہ) ہے۔اُس کو ٹھے نے دعا کی اور جس کو ٹھے میں ہم رہتے ہیں ، اس کو ٹھے نے آمین کہی۔دعا برکات وغیرہ کے لئے تھی۔“ "" احکام جلد ۸ نمبر ۲- مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۴ صفحه۲ ) ( تذکره - بتاریخ جنوری ۱۹۰۴ء- صفحه ۴۱۹)