صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 59
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۹ ۳۴- كتاب البيوع أَبِي حَازِمٍ قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت سہل بن سعد رضی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ اللہ عنہ سے میں نے سنا۔ انہوں نے کہا: ایک عورت بِبُرْدَةٍ قَالَ: أَتَدْرُوْنَ مَا الْبُرْدَةُ فَقِيْلَ بردہ لے کر آئی، کہا: آپ جانتے ہیں کہ یہ کہ یہ بردہ کیا لَهُ: نَعَمْ هِيَ الشَّمْلَةُ مَنْسُوجَةٌ فِي ہے؟ تو اُن سے کہا گیا: ہاں۔ وہ حاشیہ دار چادر ہوتی ہے۔ اُس عورت نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے یہ حَاشِيَتِهَا۔ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي اپنے ہاتھ سے بنی ہے کہ میں آپ کو پہناؤں۔ نبی آپ نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَكْسُوْكَهَا صلى اللہ علیہ وسلم نے وہ ۔ نے وہ لے لی۔ آپ کو اُس کی فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضرورت تھی۔ پھر آپ ہمارے پاس باہر آئے اور مُحْتَاجٌ إِلَيْهَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ وہی (چادر ) آپ کی تہ بند تھی۔ لوگوں میں سے ایک فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُوْلَ اللهِ شخص نے کہا: یا رسول اللہ! یہ (چادر ) مجھے پہننے کے اكْسُنِيهَا ۔ فَقَالَ : نَعَمْ فَجَلَسَ النَّبِيُّ لئے دیجئے ۔ آپ نے فرمایا: اچھا۔ نبی صلی اللہ علیہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ ثُمَّ وَسلم تھوڑی دیر مجلس میں بیٹھے رہے۔ پھر اندر جا کر رَجَعَ فَطَوَاهَا ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ اُسے تہ کیا اور اس شخص کے پاس بھیج دی۔ لوگوں نے اُس سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا کہ آپ سے یہ مانگ لَهُ الْقَوْمُ: مَا أَحْسَنْتَ سَأَلْتَهَا إِيَّاهُ لَقَدْ لی۔ مجھے علم ہی ہے کہ آپ سائل کو رد نہیں کرتے تو عَرَفْتُ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا فَقَالَ الرَّجُلُ : اس شخص نے کہا: بخدا میں نے یہ اسی لئے مانگی کہ وہ وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهَا إِلَّا لِتَكُوْنَ كَفَنِي يَوْمَ میرے لئے کفن ہو، جب میں مر جاؤں۔ حضرت سہل أَمُوْتُ ۔ قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ۔ نے کہا: تو وہی ( چادر ) اُس کا کفن ہوئی۔ اطرافه: ۱۲۷۷، 5810، 6036۔ تشریح : النتائج: جای دار چادر مانگنے والےحضرت عبدالرحمن بن عوف تھے۔ (فتح الباری شرح کتاب الجنائز باب ۲۸ روایت نمبر ۱۳۷۷) یہ مشہور صحابی ہیں جنہیں حضرت سعد بن ربیع نے اپنا نصف مال پیش کیا تھا۔ مگر انہوں نے باوجود تهیدستی کے نہیں لیا اور منڈی میں جا کر کام کاج کرتے رہے اور بہت جلدی انہوں نے اپنے لئے معاش کی صورت پیدا کر لی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چادر مانگنا اور آپ کا انہیں دینا محبت اور بے تکلفی کے رنگ میں تھا۔ اس روایت کی مزید تشریح کے لئے کتاب الجنائز باب ۲۸ روایت نمبر ۷ ۱۲۷ کی تشریح بھی دیکھئے۔ عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ عَلِمْتَ ہے۔ (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۱۱)