صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 56
صحيح البخاری جلدم ۵۶ ۳۴- كتاب البيوع تشریح : مَا قِيْلَ فِي الصَّوَّاغِ: امام موصوف نے اسم موصول ما اور فعل مجہول قبیل سے عنوان قائم کر کے ایسی روایات کی طرف اشارہ کیا ہے جو زبان زد خلائق ہیں۔اس کی مثالیں پہلے بھی گزر چکی ہیں۔چنانچہ علامہ ابن حجر نے اپنی شرح بخاری میں اس قسم کی ایک روایت امام احمد بن حنبل سے نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: أكْذَبُ النَّاسِ الصَّبَّاغُونَ وَالصَّوَّاغُونَ یعنی لوگوں میں سے سب سے جھوٹے رنگریز اور سنار ہوتے ہیں۔(یہ روایت بلحاظ سند مضطرب ہے۔یعنی پیشہ ور جن میں سنار اور رنگریز بھی شامل ہیں، ہمارے ملک میں وعدہ خلافی کی وجہ سے مشہور ہیں۔سابقہ باب میں قسمیں اور معاہدات تو ڑنے کا ذکر ہے اور اسی تعلق میں بعض پیشہ وروں کا ذکر کیا گیا ہے۔زرگروں کی بابت دور روایتیں نقل کی گئی ہیں۔جن سے پایا جاتا ہے کہ زرگری کا پیشہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی تھا اور صحابہ کرام ایسے پیشہ وروں سے معاملہ کیا کرتے تھے۔عنوانِ باب میں طاؤس اور حضرت عباس اور دوسری روایت کے آخر میں عبدالوہاب کے قول کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان حوالوں کے لئے دیکھئے کتاب جزاء الصيد، باب ۱۰،۹۔بَابِ ۲۹ : ذِكْرُ الْقَيْنِ وَالْحَدَّادِ کاریگر اور لوہار کے ذکر میں ۲۰۹۱ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۰۹۱ محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ ( محمد ) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِي عَنْ شُعْبَةَ ابن الى عدی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الضُّحَى شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے ابوال عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ خَبَّابِ قَالَ : ابوالضحیٰ نے مسروق سے، انہوں نے حضرت خباب كُنْتُ قَيْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ لِي (بن ارث ) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلِ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ زمانہ جاہلیت میں لوہارے کا کام کرتا تھا اور عاص بن أَتَقَاضَاهُ قَالَ: لَا أُعْطِيكَ حَتَّى وائل کے ذمہ میرا قرض تھا۔میں اُس کے پاس قرض تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا تقاضا کرنے کے لئے گیا۔اُس نے کہا: میں اُس فَقُلْتُ: لَا أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيْتَكَ الله وقت تک تمہیں نہیں دوں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ ثُمَّ تُبْعَثَ۔قَالَ: دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ علیہ وسلم کا اِنکار نہ کرے۔میں نے کہا: اللہ تجھے مارکر وَأُبْعَثَ فَسَأُوتَى مَالًا وَوَلَدًا فَأَقْضِيْكَ زندہ کر دے تو بھی میں انکار نہیں کروں گا۔اُس نے ابن ماجه ، کتاب التجارات باب الصناعات (مسند احمد بن حنبل، مسند ابی هریرة، جزء ۲ صفحه ۲۹۲)