صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 54
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۴ ۳۴- كتاب البيوع اس روایت کو بیان کیا ہے۔ مسند احمد بن حنبل میں ایک اور جگہ حضرت ابوذر کی یہ روایت ان الفاظ میں منقول ہے : ثَلَاثَةٌ يَشْنَؤُهُمُ اللَّهُ ۔۔۔۔ التَّاجِرُ الْحَلَّافُ أَوْ قَالَ الْبَائِعُ الْحَلَّافُ وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ۔ (مند احمد بن حنبل، مسند الانصار، حدیث ابی ذر، جزء ۵ صفحه (۱۵) ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب حضرت ابوذر اور حضرت اشعث بن قیس کو دیا، وہ بصورت تطبیق آیت ہی تھا نہ یہ کہ اس وقت نازل ہوئی۔ بَاب ۲۸ : مَا قِيْلَ فِي الصَّوَّاغِ سناروں کے بارہ میں جو کچھ کہا گیا ہے وَقَالَ طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اور طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ( مکہ کی ) گھاس نہ کائی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ۔ وَقَالَ جائے حضرت عباس نے عرض کیا: سوائے اذخر گھاس الْعَبَّاسُ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ کے، کیونکہ وہ ان کے کاریگروں ! بروں اور ان کے گھروں کے الله استعمال کی چیز ہے۔ اس پر (آنحضرت ﷺ نے) ۔ {وَبُيُؤْتِهِمْ } فَقَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ۔ فرمایا: اذخر گھاس کاٹ لو، (اس کی اجازت ہے۔) ۲۰۸۹ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ ۲۰۸۹ عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ( بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے ابن شہاب قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ أَنَّ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کہا: حُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا علی بن حسین نے مجھے خبر دی کہ حضرت حسین بن علی أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ: كَانَتْ لِي شَارِفٌ رضی اللہ عنہما نے اُن کو بتایا کہ حضرت علیؓ نے کہا: میری مِنْ نَصِيْبِي مِنَ الْمَغْنَمِ وَكَانَ النَّبِيُّ ایک بوڑھی اُونٹنی تھی جو مجھے غنیمت غنیمت سے بطور حصہ ملی تھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بوڑھی اُونٹنی غنیمت مِنَ الْخُمْسِ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ کے پانچویں حصے سے مجھے دی تھی۔ جب میں نے بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ کو اپنے گھر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاعًا لانے کا ارادہ کیا تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار لفظ " وبيوتهم فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے ( فتح الباری جزء ۴۰ حاشیہ صفحہ ۴۰۰) اری جز ۴۰ حاشیه صفحه ۴۰۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔