صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 53 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 53

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۳ ۳۴- كتاب البيوع فِيْهَا رَجُلًا مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَنَزَلَتْ کی اتنی اتنی قیمت ملتی تھی مگر میں نے نہ لی۔( یہ اس اِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ لئے کہا ) تا مسلمانوں میں سے کسی شخص کو دھوکا دے کر اسے خریدنے کے لئے آمادہ کرے۔تب یہ آیت وَأَيْمَانِهِمُ ثَمَنًا قَلِيْلًا۔نازل ہوئی : وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے (آل عمران: ۷۸) اطرافه: ٢٦٧٥، ٤٥٥١۔تشریح: بدلے میں تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں۔مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحَلِفِ فِى الْبَيْعِ : زیرباب جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے: إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ) (آل عمران: ۷۸) یعنی جو لوگ اللہ سے اپنے عہد اور قسموں کے بدلے تھوڑی قیمت یعنی دنیوی نفع لیتے ہیں آخرت میں اُن کا کوئی حصہ نہ ہوگا اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اُن سے بات نہ کرے گا اور نہ اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک ٹھہرائے گا اور اُن کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔جس طرح افزائش دولت کی غرض سے سود لینا حرام ہے۔اسی طرح قسموں کے ذریعے سے مال کے نکاس کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔روایت نمبر ۲۰۸۸ میں مندرجہ واقعہ انفرادی ہے مگر باب کا عنوان عام رکھا گیا ہے۔یہ اس لئے کہ قرآن مجید کی آیت ہر قسم کے معاہدات اور قسموں پر شامل ہے۔ایمان جمع ہے یمین کی ، جس کے معنے قسم اور طاقت ہیں۔عنوانِ باب میں لفظ حلف سے یمین کے معنے لئے گئے ہیں جو جھوٹی اور سچی قسم پر اطلاق پاتے ہیں۔یعنی اگر قسم جھوٹی ہے تو اس کی کراہت و ممانعت حرمت والی ہے اور اگر بچی ہو تو بھی یہ نزا بہت نفس کے منافی ہونے کی وجہ سے مکروہ ممنوع ہے۔(فتح الباری جز به صفحه ۴۰۰) فَنَزَلَتْ کے الفاظ سے مراد مطلق تطبیق آیت ہے۔جیسا کہ حضرت اشعث بن قیس کے تنازعہ آب پاشی کے موقع پر جو ان کے چچازاد بھائی سے ہوا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے شہادت طلب فرمائی اور شہادت کی عدم موجودگی میں فرمایا کہ مدعاعلیہ ک قسم دی جائے گی تو انہوں نے کہا: وہ تو جھوٹی قسم کھا جائے گا۔اس پر آپ نے یہی آیت پڑھی یلا نیز حضرت ابوذر کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے فرمایا: ثَلَاثَةٌ لا يُكَلِّمُهُمُ الله۔۔۔یعنی تین شخص ہیں جن سے اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا اور نہ اُن کی طرف دیکھے گا۔حضرت ابوذر نے پوچھا: مَنْ هُم؟ یہ کون ہیں؟ آپ نے تین بار فرمایا: خَابُوا وَخَسِرُوا۔وہ خائب و خاسر ہیں۔فرمایا: اَلْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقَ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ۔(مسنداحمد بن حنبل، مسند الانصار، حدیث ابی ذر الغفاری، جزء ۵ صفه ۱۶۲) یعنی مغرور جو تکبر کی وجہ سے اپنا تہ بند گھسیٹتا ہے اور جو احسان جتاتا ہے اور جو جھوٹی قسم سے اپنے مال کا نکاس کرتا ہے۔امام مسلم ہے اور بعض دیگر محدثین نے بھی بخارى، كتاب الشرب والمساقاة، باب ۴، روایت نمبر ۲۳۵۷) (مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان غلظ تحريم إسبال الإزار)