صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 52
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۲ ۳۴- كتاب البيوع سودی کاروبار کا اصل باعث اور محرک اول افزائش دولت کی حرص ہے جو بے انتہا بڑھتی جاتی ہے۔ اسی کی طرف الفاظ أَضْعَافًا مُّضْعَفَةً اِشارہ کرتے ہیں۔ موجودہ زمانے کا اقتصادی نظام جو بنکوں وغیرہ کے ذریعے قائم ہے، اس کی غرض وغایت یہی ہے کہ کاروبار نفع بخش طریق سے بصورت صنعت و حرفت و زراعت وغیرہ وسیع پیمانے پر چلایا جا سکے تا زیادہ سے زیادہ نفع حاصل ہو۔ یہ غرض و غایت زیادہ سے زیادہ سود کی طمع دے کر پوری کی جاتی ہے۔ روپیہ جمع ہوتا ہے اور اس سے افزائش پیداوار کا عمل صنعت و حرفت اور تجارت وزراعت وغیرہ کی شکل میں شروع ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ طلب و رسد کی مناسب حدود سے نکل کر اقتصادی توازن کو بگاڑ دیتا ہے اور اس فقدان توازن سے کئی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔ سرمایہ داروں کے طبقے کا چنگل مصادر مصار و موارد دولت اور وسائل و ذرائع کسب پر مضبوط سے مر مضبوط ہو جاتا اور طبقہ عمال کو ان کے رحم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ معاشرہ انسانی میں سرمایہ داری اور طبقاتی تقسیم کے بدنتائج ظاہر و باہر ہیں۔ جن میں سے اشیاء کے نرخوں میں زیادتی کے علاوہ پیداوار کی بہتات سے منڈیوں میں سامان رسد کی فراوانی، قلت زر اور قوت خرید میں کمی بھی ہے اور پھر اسی تسلسل میں تعطل عمل ، بیکاری، بحران اور افراط زر کی صورت ہے جس سے بنی نوع انسان کو وقتا فوقتا دو چار ہونا پڑتا ہے اور محاق میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی نظام سود کی تدریجی زوال پذیری کی طرف۔ اس سے بعض بڑے پایہ کے علماء اقتصاد میں یہ احساس بشدت پیدا ہو چکا ہے کہ مذکورہ بالا اقتصادی توازن کے فقدان کا اصل سبب سودی کاروبار ہے اور ان کی رائے ہے کہ یہ نا مساعد طریق بالکل ہی ختم کئے جانے کے لائق ہے۔ چنانچہ روسی نظام میں سود کی ممانعت کی گئی ہے۔ روسی نظام کے مفکرین نے اقتصادی علتوں اور خرابیوں کی بنیادی وجہ سود قرار دی ہے اور مشورہ دیا ہے کہ یہ طریق سخت ضرر رساں ثابت ہوا ہے۔ مبلغین سلسلہ کے لئے ان مفکرین کی کتابیں پڑھنا ضروری ہیں تا وہ موجودہ زمانے کی مشکلات کو اسلامی احکام کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کر سکیں۔ باب ۲۷ : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ خرید و فروخت میں قسم کھانا مکروہ ہے ہشہ ۲۰۸۸ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۰۸۸ : عمرو بن محمد نے ہم سے بیان کے م سے بیان کیا کہ مشیم نے حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ عَنْ ہمیں بتایا۔ عوام ( بن حوشب ) نے ہمیں خبر دی ۔ انہوں إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللهِ نے ابراہیم بن عبدالرحمن سے، ابراہیم نے حضرت ابْنِ أَبِي أَوْ فَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا عبد الله بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک أَقَامَ سِلْعَةً وَهُوَ فِي السُّوْقِ فَحَلَفَ شخص نے ( بازار میں ) اپنا تجارتی سامان رکھا۔ ابھی بِاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَى بِهَا مَا لَمْ يُعْطَ لِيُوْقِعَ وہ منڈی میں تھا کہ اللہ کی قسم کھا کر کہنے لگا کہ مجھے اس