صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 46
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴- كتاب البيوع ٢٠٨٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۲۰۸۴ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ نے منصور سے، منصور نے ابوالضحیٰ سے، ابواضحی نے عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا مسروق سے مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب سورہ بقرہ کی نَزَلَتْ آخِرُ الْبَقَرَةِ قَرَأَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فِي الْمَسْجِدِ آخری آیتیں نازل ہوئیں تونبی صل اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں پڑھ کر انہیں سنائیں اور آپ نے شراب کی ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ۔ تجارت بھی حرام قرار دی۔ اطرافه: ٤٥٩ ٢٢٢٦، ٤٥٤٠، ٤٥٤١، ٤٥٤٢ ، ٤٥٤٣۔ ٢٠٨٥: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۲۰۸۵ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ ابور جاء (بصری) نے حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ہم سے بیان کیا کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ نے فرمایا: آج رات میں نے دو اشخاص کو خواب میں أَتَيَانِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُقَدَّسَةٍ دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے ہیں اور مجھے ایک مقدس زمین کی طرف لے گئے ہیں ۔ ہم چلتے گئے یہاں تک فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِّنْ دَمٍ کہ ایک خون کی ندی پر پہنچے۔ جس میں ایک شخص کھڑا فِيْهِ رَجُلٌ قَائِمٌ وَعَلَى وَسَطِ النَّهَرِ تھا اور ندی کے عین وسط میں ایک اور شخص تھا جس کے رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةً فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ سامنے پتھر رکھے ہوئے تھے۔ تب وہ پہلا شخص جوند الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ میں کھڑا تھا، جب آگے بڑھا اور نکلنے کا قصد کیا تو يَخْرُجَ رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيْهِ اُس دوسرے شخص نے اُس کے منہ پر پتھر مارا اور فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ اُسے وہیں کو ٹا دیا ، جہاں وہ کھڑا تھا۔ اسی طرح جب لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيْهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ بھی وہ باہر نکلنے کے لئے بڑھتا تو اُس کے منہ پر پتھر كَمَا كَانَ فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ : مارتا ، جس سے وہ ویسا ہی لوٹ جاتا۔ میں نے کہا: یہ الشخص جوندی