صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 45 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 45

صحيح البخاری جلد ۴ ۴۵ ۳۴- كتاب البيوع سود کی یہی صورت ہندوستان میں بھی رائج رہی ہے اور سودی کاروبار کی ایسی صورت کی طرف الفاظ أَضْعَافًا مُّضَعَفَةً سے اشارہ کیا گیا ہے۔بعض علماء زمانہ نے تجارتی کاروبار کے عالمگیر تعامل سے مرعوب ہو کر یہ فتویٰ دیا ہے کہ اگر اضعَافًا مُضعَفَة کی صورت نہ ہو تو سود جائز ہے اور بنکوں وغیرہ کے ذریعے سے جو روپیہ کا روبار کے لئے سود پر لیا جاتا ہے، اُسے بھی حرمت سے مستقلی کیا ہے اور یہاں تک کہ دینے کی جسارت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیداوار کی غرض سے سود کے لین دین کا وجود ہی نہ تھا۔اس انکار کی وجہ صرف لاعلمی نہیں بلکہ شکست خوردہ ذہنیت کی بے چارگی ہے۔ان میں اور اُن لوگوں میں کیا فرق ہے، جو ایک جائز غرض کے لئے ناجائز ذرائع اختیار کرنے پر عمل پیرا ہیں۔اس نظریہ نے ظلم کا ارتکاب آسان کر دیا ہے، جس کی بھیانک داستان کے لئے دیکھئے کتاب الاجرام السیاسی (حسن الحدادی) جو عربی ترجمہ ہے Le Crime Politiave تصنیف Louis Proa کا۔باب ٢٤ : آكِلُ الرِّبَا وَشَاهِدُهُ وَكَاتِبُهُ سود خور اور سود کی گواہی دینے والا اور سود کی تحریر لکھنے والا قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: الَّذِيْنَ يَأْكُلُونَ (اور) اللہ تعالیٰ کا ( یہ ) فرمانا: جولوگ سود کھاتے ہیں الرَّبُوا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ وه (بالكل ) اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں، جس طرح الَّذِى يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطنُ مِنَ الْمَسِ وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس پر شیطان (یعنی مرضِ جنون ) ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ کا سخت حملہ ہو۔{ مدیہ (حالت) اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے رہتے ہیں کہ خرید و فروخت بھی سود کی طرح الرَّبُوا وَاَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرَّبوا ہے، حالانکہ اللہ نے خرید و فروخت کو جائز قرار دیا ہے فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَّبِّهِ فَانتَهی اور سود کو حرام کیا ہے۔یاد رکھو کہ جس شخص کے پاس اس فَلَهُ مَا سَلَفَ وَاَمْرُةٌ إِلَى الله کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت کی بات آئے اور وہ وَمَنْ عَادَ فَأُولَبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ (اسے سن کر خلاف ورزی سے ) باز آجائے ، جو لین دین فِيهَا خَلِدُونَ } (البقرة : ٢٧٦) وہ پہلے کر چکا ہو تو اُس کا نفع اُسی کا ہے اور اُس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے اور جو (لوگ) پھر بھی وہی کام کریں تو وہ ضرور آگ میں پڑنے والے ہیں۔اس میں وہ ایک لمبا عرصہ رہیں گے۔} آیت کے یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق متن میں شامل ہیں۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۰۰)