صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 45
صحيح البخاری جلد ۴ ۴۵ ۳۴- كتاب البيوع سود کی یہی صورت ہندوستان میں بھی رائج رہی ہے اور سودی کاروبار کی ایسی صورت کی طرف الفاظ أَضْعَافًا مُضْعَفَةً سے اشارہ کیا گیا ہے۔ بعض علماء زمانہ نے تجارتی کاروبار کے عالمگیر تعامل سے مرعوب ہو کر یہ فتوی دیا ہے کہ اگر اضْعَافًا مضْعَفَةً کی صورت نہ ہو تو سود جائز ہے اور بنکوں وغیرہ کے ذریعے سے جو روپیہ کا جو روپیہ کا روبار کے لئے سود پر لیا جاتا ہے، اُسے بھی حرمت سے مستثنیٰ کیا ہے اور یہاں تک کہہ دینے کی جسارت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیداوار کی غرض سے سود کے لین دین کا وجود ہی نہ تھا۔ اس انکار کی وجہ صرف لا علمی نہیں بلکہ شکست خوردہ ذہنیت کی بے چارگی ہے۔ ان میں اور اُن لوگوں میں کیا فرق ہے، جو ایک جائز غرض کے لئے ناجائز ذرائع اختیار کرنے پر عمل پیرا ہیں۔ اس نظریہ نے ظلم کا ارتکاب آسان کر دیا ہے، جس کی بھیا تک داستان کے لئے دیکھئے کتاب الاجرام السیاسی (حسن الحدادی) کا۔ Louis Proa تصنیف Le۔ Crime Politiave جو عربی ترجمہ ہے باب ٢٤ : آكِلُ الرِّبَا وَشَاهِدُهُ وَكَاتِبُهُ سود خور اور سود کی گواہی دینے والا اور سود کی تحریر لکھنے والا قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : الَّذِينَ يَأْكُلُونَ (اور ) اللہ تعالیٰ کا ( یہ ) فرمانا: جو لوگ سود کھاتے ہیں الرَّبُوا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُوْمُ (بالکل ) اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں، جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس پر شیطان ( یعنی مرض جنون ) الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَنُ مِنَ الْمَسِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ كاسخت حملہ ہو ۔ { یہ حالت ) اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے رہتے ہیں کہ خرید و فروخت بھی سود کی طرح الرَّبُوا وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبوا ہے، حالانکہ اللہ نے خرید وفروخت کو جائز قرار دیا ہے فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَّبِّهِ فَانْتَهَى اور سود کو حرام کیا ہے۔ یاد رکھو کہ جس شخص کے پاس اس فَلَهُ مَا سَلَفَ وَاَمْرُةَ إِلَى الله کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت کی بات آئے اور وہ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ (اسے من کر خلاف ورزی سے باز آجائے ، جولین دین فِيهَا خُلِدُونَ } (البقرة : ٢٧٦) وہ پہلے کر چکا ہو تو اُس کا نفع اُسی کا ہے اور اُس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے اور جو (لوگ) پھر بھی وہی کام کریں تو وہ ضرور آگ میں پڑنے والے ہیں۔ اس میں وہ ایک لمبا عرصہ رہیں گے۔ } آیت کے یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق متن میں شامل ہیں۔ (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۰۰)