صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 659 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 659

صحيح البخاری جلدم ۶۵۹ ۱ ۵ - كتاب الهبة وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ: ابونعیم نے متخرج میں موصولا یہ قول روایت کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۸۰) دستبرداری سے دوسرے کا قبضہ ہو جانے کے تعلق میں حمیدی کی روایت کا حوالہ دیا گیا ہے۔بَابِ ۲۷ : هَدِيَّةُ مَا يُكْرَهُ لُبْسُهَا جو کپڑا پہنا مکروہ ہو اُسے بطور تحفہ دینا ٢٦١٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۶۱۲ عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ مَّالِكِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَأَى عُمَرُ بْنُ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب نے مسجد کے دروازے الْخَطَّابِ حُلَّةٌ سَيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ کے پاس ایک ریشمی دھاریدار جوڑا ( بلکتے ) دیکھا تو الْمَسْجِدِ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ لَوِ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور نمائندوں سے ملنے کے وقت پہنا اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ۔قَالَ: إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَّا خَلَاقَ کریں تو مناسب ہوگا۔آپ نے فرمایا: اسے تو وہی لَهُ فِي الْآخِرَةِ۔ثُمَّ جَاءَتْ حُلَلْ فَأَعْطَى پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔اس کے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بعد چند ریشمی جوڑے آئے تو رسول اللہ اللہ نے اُن مِنْهَا حُلَّةٌ فَقَالَ: أَكَسَوْتَنِيْهَا وَقُلْتَ فِي میں سے ایک جوڑا حضرت عمر کو بھی دیا اور حضرت عمرؓ حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَمْ نے کہا: کیا آپ نے یہ مجھے پہنے کو دیا ہے حالانکہ عطارد أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخَا کے جوڑے سے متعلق آپ فرما چکے ہیں جو فرما چکے ہیں۔تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ اس لئے نہیں دیا کہ تم اسے پہنو۔چنانچہ حضرت عمر نے اپنے ایک بھائی کو وہ پہنے کے لئے دے دیا جو مکہ میں مشرک تھا۔لَّهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا۔اطرافه ۸۸٦، ۹۴۸، ۲۱۰۴، ۲۶۱۹ ،۳۰۰، ۰۸۱، ۰۹۸۱، ۶۰۸۱ ٢٦١٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ۲۶۱۳: محمد بن جعفر ابو جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيْهِ ابن فضیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے،