صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 657
صحيح البخاری جلدم ۶۵۷ ۱ ۵ - كتاب الهبة ٢٦١٠ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بنُ :۲۶۱۰ عبد الله بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو سے، عمرو نے عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْهُمَا أَنَّهُ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ نبی كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے اور حضرت فِي سَفَرٍ وَكَانَ عَلَى بَكْرٍ لِعُمَرَ صَعْبِ عمر کے ایک اونٹ پر سوار تھے جو منہ زور تھا اور نبی فَكَانَ يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى الله علیہ وسلم سے آگے بڑھ جاتا اور ان کے والد وَسَلَّمَ فَيَقُوْلُ أَبُوهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا انہیں کہتے : عبد الله ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی آگے يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نہ بڑھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے أَحَدٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ فرمایا: میرے پاس یہ فروخت کر دو۔حضرت عمر نے وَسَلَّمَ: بِعْنِيْهِ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ لَكَ۔کہا: یہ تو آپ ہی کا ہے۔آپ نے اسے خرید لیا۔فَاشْتَرَاهُ ثُمَّ قَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ اس کے بعد فرمایا: عبداللہ امی اب تمہارا ہی ہے۔اس فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ۔اطرافه: ٢١١٥، ٢٦١١۔سے تم جو چاہو کام لو۔تشريح۔مَنْ أَهْدِى لَهُ هَدِيَّةٌ وَعِندَهُ جُلَسَاءُ هُ فَهُوَ أَحَقُّ : عنوان باب کے تحت دو روایتیں ہیں۔ایک حضرت ابو ہریرہ کی جس میں ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض کی ادائیگی میں قرض سے زیادہ دیا اور دوسری روایت حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی ہے جس میں آپ کے انہیں اونٹ ہبہ کرنے کا ذکر ہے۔امام ابن حجر رحمہ اللہ علیہ کا خیال ہے کہ اس باب سے امام بخاری رحمہ اللہ علیہ یہ ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ مشاع و غیر مشاع اور قلیل اور کثیر کا فرق مسئلہ کی نوعیت نہیں بدلتا۔ان میں فتوئی یکساں ہے۔یہ نہیں کہ کسی صورت میں ہبہ شرعی ہو اور دوسری صورت میں ہبہ غیر شرعی۔بعض شارحین کا خیال ہے کہ اس باب کی روایتوں سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ ہدیہ اور ہبہ میں فرق نہیں۔دونوں قیاس درست معلوم ہوتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۸۰) احناف کے نزدیک بلدیہ اور ہبہ میں یہ فرق ہے کہ ثانی الذکر ایک عقد ہے جس میں ایجاب و قبول اور قبضہ ضروری سمجھا گیا ہے۔اس تعریف کے لحاظ سے دونوں واقعات میں کوئی صورت معین نہیں۔قرضدار کو جو زیادہ دیا گیا وہ ہدیہ تو کہلا سکتا ہے لیکن عقد ہبہ نہیں۔اور دوسرے واقعہ میں اونٹ کا دیا جاتا ہبہ بھی ہے اور ہدیہ بھی۔دونوں صورتیں ملی جلی ہیں کیونکہ بغیر معاوضہ ہیں۔عنوان باب میں جو حوالہ حضرت ابن عباس کی روایت کا دیا گیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ أَهْدِيتُ لَهُ هَدِيَّةٌ