صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 656
صحيح البخاري - جلد ۴ ۶۵۶ ۱ ۵ - كتاب الهبة تشريح : إِذَا وَهَبَ جَمَاعَةٌ لِقَوْمٍ : اس بات کا تعلق بھی سابقہ مضمون سے ہے۔ مشتر کہ جائیداد کے مبہ : باب سے سے متعلق امام ابو حنیفہ کا مذہب جن الفاظ میں نقل کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر تقسیم شدہ مشترکہ سر اموال کا ہبہ جائز نہیں۔ ائز نہیں۔ وفد ہوازن کے اموال غنیمت مت بصورت مشاع غیر تقسیم شده تقسیم شدہ تھے اور وہ ہبہ کئے گئے۔ (عمدۃ القاری جزء۱۳ صفحہ ۱۶۴) احناف کے استدلال کا جو جواب دیا گیا ہے وہ تشریح باب ۲۳ میں دیکھئے ۔ کشمیینی کے نسخہ صحیح بخاری میں معنونہ الفاظ یہ ہیں: أَوْ وَهَبَ رَجُلٌ جَمَاعَةً ۔ یا ایک شخص جماعت کو ہبہ کرے۔ بعض شارحین کے نزدیک واقعہ ہوازن میں صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا اور پھر آپ نے وہ ہوازن کو ہبہ کر دیئے ۔ یہ توجیہہ تکلف ہے اور علامہ ابن حجر کے نزدیک باب ۲۴ میں یہ مسئلہ مد نظر ہی نہیں۔ اس کا ذکر پہلے ( زیر باب (۲۲) ہو چکا ہے۔ اس لئے کشمیینی میں مذکورہ بالا حصہ زائد ہے۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۷۹) واقعہ ہوازن کے لئے کتاب الوكالة باب کے روایت نمبر ۲۳۰۷-۲۳۰۸ دیکھئے۔ بَاب ٢٥ : مَنْ أَهْدِي لَهُ هَدِيَّةٌ وَعِنْدَهُ جُلَسَاؤُهُ فَهُوَ أَحَقُّ ہد یہ جسے دیا جائے اور اس کے پاس اس ۔ پاس اس کے ہم نشین ہو نشین بن ہوں تو وہ اس ہدیہ کا زیادہ حقدار ہے وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جُلَسَاءَهُ اور حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ اس کے ہم نشین بھی شریک ہوں گے اور یہ روایت صحیح ثابت شُرَكَاءُهُ۔ وَلَمْ يَصِحٌ۔ نہیں ہوتی ۔ ٢٦٠٩ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا ۲۶۰۹ (محمد ) بن مقاتل نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نے ہم سے بیان کیا ۔ ( انہوں نے کہا: ) شعبہ نے نے سلمہ بن کھیل سے سلمہ نے كُهَيْلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہمیں خبر دی ۔ انہوں نے سلمہ بن ابوسلمہ سے، ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ سے، حضرت ابو ہریرہ ۔ ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَخَذَ سِنَّا فَجَاءَ صَاحِبُهُ روایت کی کہ آپ نے ایک اونٹ قرض لیا تھا۔ پھر يَتَقَاضَاهُ۔ فَقَالُوْا لَهُ فَقَالَ : إِنَّ لِصَاحِبِ اُونٹ والا آپ کے پاس آیا، آپ سے تقاضا کرنے الْحَقِّ مَقَالًا ثُمَّ قَضَاهُ أَفْضَلَ مِنْ سِنِهِ لگا۔ صحابہ نے اس سے (سختی سے بات کی ۔ آپ نے فرمایا: حقدار کہا ہی کرتا ہے۔ پھر آپ نے اسے اس وَقَالَ : أَفْضَلُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً۔ کے اونٹ کی عمر سے بڑھ کر عمر والا اونٹ دیا اور فرمایا: تم میں بہتر وہی ہیں جو قرضے کو خوبی سے ادا کریں۔ اطرافه: ۲۳۰۵، ۲۳۰۶، ۲۳۹۰، ۲۳۹۲، ٢۳۹۳، ٢٤٠١، ٢٦٠٩۔