صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 654 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 654

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۵۴ ۱ ۵ - كتاب الهبة کو اس بارہ میں ہے۔اس کی وضاحت سابقہ باب میں کی جاچکی ہے۔عنوان باب میں وفد ہوازن کے واقعہ کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ اگلے باب میں دیکھئے اور حضرت جابر کا واقعہ دیکھئے کتاب البیوع باب ۳۴ روایت نمبر ۲۰۹۷۔دونوں سے مسئلہ معنونہ ثابت ہے۔احناف کا استدلال اس بارہ میں کمزور ہے کیونکہ مذکورہ بالا واقعات میں شرعی ہبہ کی صورت نہ تھی۔(عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحه ۱۶۲) ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۷۸) شرعی ہبہ میں قبضہ حقیقی اور قبضہ تقدیری کی اصطلاحیں عہد نبوئی کے بعد کی ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل معناہبہ کی صورت رکھتا ہے یا نہیں۔بَابِ ٤ ٢ : إِذَا وَهَبَ جَمَاعَةٌ لِقَوْمٍ اگر ایک جماعت ایک قوم کو ہبہ کرے ٢٦٠٧ - ٢٦٠٨: حَدَّثَنَا يَحْيَى ۲۶۰۷-۲۶۰۸: بسیجی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ لیٹ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ الْحَكَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ: مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ نے ان کو بتایا کہ نبی ہے نے جب آپ کے پاس ہوازن کے نمائندے مسلمان أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ہو کر آئے اور انہوں نے آپ سے درخواست کی کہ ان حِيْنَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِینَ کے مال اور قیدی انہیں واپس کر دیں۔آپ نے ان سے فَسَأَلُوْهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فرمایا: میرے ساتھ وہ لوگ ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ: مَعِي مَنْ تَرَوْنَ اور مجھے سب سے پیاری بات وہ ہے جو سچی ہو۔اس وَأَحَبُّ الْحَدِيْثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ لئے دو باتوں میں سے ایک بات جو بہتر ہو پسند کرلو۔فَاخْتَارُوْا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ قیدیوں کو یا مال کو اور میں نے اسی لئے تقسیم میں دیر کی وَإِمَّا الْمَالَ - وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنِيتُ تھی۔اور نبی ﷺ جب طائف سے لوٹے تھے تو وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دس سے کچھ اوپر راتیں ان کا انتظار کرتے رہے۔جب انہیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ نبی ﷺ انہیں واپس انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِيْنَ قَفَلَ کرنے کے نہیں مگر دو چیزوں میں سے ایک چیز تو انہوں مِنَ الطَّائِفِ - فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کو ہی لینا پسند کرتے ہیں۔اس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍ إِلَيْهِمْ پر آپ مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف