صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 650 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 650

صحيح البخاری جلد ۴ ۱ ۵ - كتاب الهبة يَكُونُ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ؟ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: عمر سنو! اور وہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت عمرؓ نے کہا: یہ کیوں نہ ہوتا۔بخدا وَاللهِ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ۔ہمیں تو علم ہے کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں۔اطرافه ۲۱۲۷، ۲۳۹۵، ۲۳۹۶، ۲۰۰۵، ۲۷۰۹، ۲۷۸۱، ٣٥۸۰ ٤٠٥٣، ٦٢٥٠ تشریح: إِذَا وَهَبَ دَيْنًا عَلَى رَجُلٍ : مسئلہ معنونہ کا تعلق بھی دراصل سابقہ مضمون سے ہے کہ آیا قبضہ عقد ہبہ کی صحت کے لیے شرط ہے۔جن فقہاء نے ہبہ میں قبضہ شرط قرار نہیں دیا ان کے نزدیک یہ صورت جائز ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ قرضہ واپس لے کر ہبہ کرے گا یا صرف وثیقہ تحریر کیا جائے گا کہ قرضہ وصول ہو چکا ہے یا اس بارے میں کہ قرضہ وصول ہو چکا ہے، اعلان اور شہادت ہی کافی ہوگی۔فقہاء کا اس امر میں تو اتفاق ہے کہ ہبہ کی یہ صورت جائز ہے بشرطیکہ مقروض قبول کرے۔قرض سے سبکدوشی کے لئے قبضہ کی ضرورت نہیں، لیکن اگر مقروض کے علاوہ کسی اور شخص کے حق میں قرض ہبہ کیا جائے تو امام مالک کے نزدیک اس میں قرضہ کا وثیقہ تحریر کرد دینا ضروری ہے یا اعلان اور شہادت کہ فلاں قرضہ فلاں کے حق میں دیا گیا ہے۔جن فقہاء کے نزدیک ہبہ بغیر قبضہ صحیح نہیں ، انہوں نے قرضہ کا ہہ جائز قرار نہیں دیا۔چنانچہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کی یہی رائے ہے۔امام غزالی جائز سمجھتے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۳۰ صفحه ۱۵۹ ۱۶۰) ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۷۶،۲۷۵) اس اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ اول الذکر امامین نے ہبہ کو عقد بیع پر قیاس کیا ہے۔بیچ میں تا وقتیکہ اشیاء ) زیر فروخت پر قبضہ نہ ہو، بیع صحیح قرار نہیں پاتی۔(دیکھئے کتاب البیوع تشریح باب ۵۵) یہ وہ فقہی نظریہ کا اختلاف ہے جس کا حل باب ۲۱ میں مد نظر ہے۔اس کے لئے عنوانِ باب میں چار حوالے دئے گئے ہیں۔شعبہ کے فتوے کا حوالہ ابن ابی شیبہ نے موصولا نقل کیا ہے کہ حکم نے مجھ سے ذکر کیا کہ محمد بن عبد الرحمن المعروف ابن ابی لیلی نے مجھ سے یہ مسئلہ دریافت کیا ☆ تو میں نے جواز کا فتویٰ دیا۔پھر میں نے حماد سے پوچھا تو انہوں نے فتویٰ اس کے خلاف دیا۔اس حوالے سے دونوں نقطہ ہائے نظر کی طرف اشارہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے حوالہ کے تعلق میں دیکھئے کتاب المظالم باب ٠ ا روایت نمبر ۲۴۴۹۔اور حضرت جابڑ کا حوالہ کتاب الاستقراض، باب ۸ ، روایت نمبر ۲۳۹۵ میں دیکھا جائے اور اس تعلق میں کتاب البیوع تشریح باب ۵۱ بھی دیکھئے۔حمل مصنف ابن ابي شيبة، كتاب البيوع، الرجل يهب للرجل الذي يكون له عليه دین، جزء ۴ صفحه ۴۸۷، ۴۸۸)