صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 641
صحيح البخاري - جلدم أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ۔طرفه: ٢٥٩٢۔។" ۱ ۵ - كتاب الهبة سے کسی کو دے کر صلہ رحمی کرتیں تو یہ بات تمہارے ثواب کو زیادہ کرنے کا موجب ہوتی۔٢٥٩٥ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۵۹۵ محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔محمد بن جعفر نے حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِي عَنْ طَلْحَةَ بْن عبدالمالک) ابوعمران جونی سے، انہوں نے طلحہ بن عبداللہ سے جو قبیلہ بنی تیم بن مرہ میں سے ایک شخص عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ تھے۔طلحہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : قُلْتُ : يَا کی حضرت عائشہ کہتی تھیں۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيْهِمَا میرے دو پڑوسی ہیں ، تو ان میں سے کس کو میں ہدیہ أَهْدِي ؟ قَالَ : إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا بھیجوں؟ آپ نے فرمایا: ان میں سے اس کو جس کا اطرافه: ٢٢٥٩، ٦٠٢٠ دروازہ تم سے زیادہ نزدیک ہو۔تشریح : بِمَنْ يُبْدَأُ بِالْهَدِيَّةِ: عنوان باب کے تحت واو عاطفہ کےساتھ کر کی جوروایت بسند کریپ نقل کی گئی ہے وہ زیر باب ۱۵ روایت نمبر ۲۵۹۲ میں گزر چکی ہے۔اس حدیث اور حضرت عائشہ کی حدیث ( نمبر ۲۵۹۵) میں تعارض نہیں۔صلہ رحمی میں رشتہ دار غیر رشتہ دار کے مقابل میں مقدم کئے جائیں گے اور حق ہمسائیگی میں ہدیہ کے لئے قریب ترین ہمسایہ مقدم ہوگا، اگر سب کو ہدیہ نہیں بھیجا جاسکتا۔بکر کی یہ روایت واو عاطفہ کے ذریعہ اس غرض سے بھی جمع کر دی گئی ہے تا ان کا ظاہری تعارض دور ہو جائے۔بَابِ ۱۷ : مَنْ لَّمْ يَقْبَلِ الْهَدِيَّةَ لِعِلَّةِ جو کسی عذر کی وجہ سے ہدیہ قبول نہ کرے وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : كَانَتِ اور عمر بن عبد العزیز نے کہا کہ ہد یہ رسول اللہ صلی اللہ الْهَدِيَّةُ فِي زَمَن رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله علیہ وسلم کے زمانہ میں ہد یہ تھا اور آج رشوت ہے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةَ وَالْيَوْمَ رِشْوَةٌ۔٢٥٩٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۵۹۶ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَن الزُّهْرِي قَالَ: أَخْبَرَنِي ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں