صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 640 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 640

صحيح البخاری جلدم ۶۴۰ ۵۱ - كتاب الهبة شریح: هِبَةُ الْمَرْأَةِ لِغَيْرِ زَوْجِهَا وَعِتَقُهَا إِذَا كَانَ لَهَا زَوْجٌ فَهُوَ جَائِزٌ : صحت پر کی شرطوں میں سے ملکیت صحیحہ تامہ کے علاوہ یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ ہبہ کرنے والا عاقل و بالغ ہو۔عورتیں جو اپنے والدین یا خاوندوں کی نگرانی کے تحت ہوتی ہیں، ان سے متعلق یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا وہ بغیر اجازت خاوند ہبہ کر سکتی ہیں یا نہیں۔طاؤس کے نزدیک خاوند کے سوا کسی مرد و قطعا ہبہ نہیں کر سکتیں اور انہوں نے عمرو بن شعیب کی روایت سے تمسک کیا ہے جو انہوں نے اپنے دادا سے مرفوعا نقل کی ہے۔جبکہ امام مالک سے یہ الفاظ مروی ہیں: لَا يَجُوزُ لَهَا أنْ تُعْطِي بِغَيْرِ إِذَن زَوْجِهَا وَلَوْ كَانَتْ رَشِيْدَةُ إِلَّا مِنَ الثَّلْثِ۔فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۶۸) عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے مال میں سے بغیر اجازت خاوند عطیہ دے، خواہ رُشد کی حالت میں ہو اور وہ باجازت ایک تہائی مال سے غیر کو بھی دے سکتی ہے۔جمہور کے نزدیک عورت اگر سفیہ یعنی بیوقوف نہ ہو، اپنے مال میں تصرف کرنے کی مجاز ہے۔خاوند کی اجازت سے اسے مقید کرنا خلاف منشاء کتاب و سنت ہے ، سوا اس کے کہ وہ کم عقل ہو۔محولہ بالا پوری آیت یہ ہے : وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِى جَعَلَ اللهُ لَكُمْ قِيَامًا وَّارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا۔(النساء:۶) اور نا سمجھوں کو اپنا مال نہ دو جو اللہ نے تمہارے لئے سہارا بنایا ہے اور ان میں سے ان کو کھلا ؤ اور پہناؤ اوران سے بھلی بات کہتے رہو ( یہاں تک کہ سمجھ دار ہو جائیں ) اس آیت سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ صرف نا مجھی اور نا تجربہ کاری تصرف اموال سے مانع ہے ورنہ بحالت عقل و فہم ہر مالک اپنے مال میں تصرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔زیر باب چار روایتیں درج ہیں جو مسئلہ معنونہ کے بارے میں واضح ہیں۔ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ روایتیں بلحاظ صحت نہایت مستند ہیں۔( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۶۸) بَابِ ١٦ : بِمَنْ يُبْدَأُ بِالْهَدِيَّةِ؟ ہدہ یہ پہلے کن کو دیا جائے؟ ٢٥٩٤ : وَقَالَ بَكْرٌ عَنْ عَمْرٍو عَنْ :۲۵۹۴ اور بکر ( بن مضر ) نے عمرو بن حارث ) بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ: اَنَّ سے ہمیں بتایا۔انہوں نے بکیر سے، بکیر نے حضرت مَيْمُوْنَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابن عباس کے غلام کر یب سے روایت کی کہ نبی ہے وَسَلَّمَ أَعْتَقَتْ وَلِيْدَةً لَّهَا فَقَالَ لَهَا کی زوجہ حضرت میمونہ نے اپنی ایک لونڈی آزاد کر دی وَلَوْ وَصَلْتِ بَعْضَ أَخْوَالِكِ كَانَ تو آپ نے ان سے فرمایا: اگر تم اپنے ننھیال والوں (سنن النسائی، كتاب الزكاة، باب عطية المرأة بغير إذن زوجها) سنن ابی داؤد، کتاب البيوع، باب فى عطية المرأة بغير إذن زوجها)