صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 639
صحيح البخاري - جلدم ۶۳۹ ۱ ۵ - كتاب الهبة يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي أَعْتَقْتُ وَلِيْدَتِي؟ آپ ان کے پاس آیا کرتے تھے، کہنے لگیں: یا رسول اللہ! قَالَ: أَوَفَعَلْتِ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: أَمَا کیا آپ کو علم ہے کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے۔آپ نے فرمایا: کیا تم نے اسے آزاد کر دیا ہے؟ إِنَّكِ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ میں نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: واہ اگر تم وہ لونڈی لِأَجْرِكِ۔اپنے ننھیال والوں کو دے دیتیں تو یہ بات تمہارے ثواب کو زیادہ بڑھانے والی ہوتی۔وَقَالَ بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ اور بکر بن مضر نے عمرو بن حارث ) سے، عمرو نے بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبِ: إِنَّ مَيْمُوْنَةً بكير ، بکیر نے کریب سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت میمونہ نے اپنی لونڈی کو آزاد کر دیا تھا۔أَعْتَقَتْ۔۔۔طرفه ٢٥٩٤ ٢٥٩٣: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى :۲۵۹۳ جان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَن عبدالله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔(انہوں نے الزُّهْرِي عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ کہا : یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ سے روایت کی، کہتی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ جب کسی سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے درمیان بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ قرعہ ڈالتے۔پھر ان میں سے جس کا قرعہ نکلتا آپ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ اس کو اپنے ساتھ لے جاتے اور آپ ان میں سے ہر زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زوجہ کا دن اور اس کی رات مقرر کر دیتے تھے۔مگر زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت سودہ بنت زمعہ نے اپنا دن اور اپنی رات نبی تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ کو دے دیا تھا۔اس سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔وہ رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی چاہتی تھیں۔اطرافه: ٢٦٣٧، ٢٦٦١ ، ٢٦٨٨، ۶۸٧٩، ۱۰۲۵، ۱۱٤۱، ٤٦٩۰ ٤٧٤٩، ٤٧٥٠، ٠ ٠٧٥٤٥۷٥۰۰ ،۷۳۷۰ ،۷۳٦٦٦ ٠٦٦٧٩ ٦٩۲ ۰۲۱۲ ،٤٧٥٧