صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 629
صحيح البخاري - جلد ۴ ۶۲۹ ۱ ۵ - كتاب الهبة بیویاں ہوں تو ان کے ساتھ عادلانہ حسن سلوک سے کام لے۔ جذبات محبت کی کمی بیشی کا دارو مدار ذاتی خوبیوں پر ہے۔ جس کی تقسیم اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں متفاوت طور پر کی ہے۔ کسی کا حق نہیں کہ ان میں مساوات کا مطالبہ کرے اور نہ یہ ممکن ہے۔ حضرت عائشہ کی باری میں وحی الہی کا نزول ان کی روحانی مناسبت سے تھا اور یہ خصوصیت معمولی نہ تھی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ایک خارق عادت امر تھا اور صحابہ کرام بھی حضرت عائشہ کے ممتاز اوصاف حمیدہ کا پورا احساس رکھتے تھے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا خواہش کا بار بار اظہار کیوں کیا ؟ اس کا سبب مذکورہ بالا غلط نہیں کے علاوہ یہ بھی ہے کہ ایک بیوی کے ساتھ صحابہ کرام کا ہدایا پیش کرنے کے بارے میں جو انداز ہو وہ دوسری بیویوں کے ساتھ نہ ہو تو ان کا اسے اپنی تحقیر سمجھنا ایک طبعی امر تھائی بَاب ۹ : مَا لَا يُرَدُّ مِنَ الْهَدِيَّةِ جس ہدیہ کو واپس کرنا درست نہیں ( اس کا بیان ) ٢٥٨٢ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۲۵۸۲ ابو معمر نے ہمیں بتایا۔ عبدالوارث نے عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ہم سے بیان کیا کہ عزرہ بن ثابت انصاری نے ہمیں الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ بتایا۔ انہوں نے کہا: ثمامہ بن عبداللہ نے مجھ سے عَبْدِ اللَّهِ۔ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَنَاوَ لَنِي طِيبًا بیان کیا۔ (عزرہ) کہتے تھے: میں شمامہ کے پاس گیا۔ انہوں نے مجھے خوشبو دی۔ کہنے لگے: حضرت انس قَالَ: كَانَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَرُدُّ رضی اللہ عنہ خوشبو کو رد نہیں کیا کرتے تھے۔ الطَّيِّبَ۔ قَالَ : وَزَعَمَ أَنَسٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى ثمامہ نے) کہا اور حضرت انس کہتے تھے کہ نبی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطَّيِّبَ ۔ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کو رو وسلم خوشبو کو رد نہیں کرتے ۔ طرفه ٥٩٢٩ تے تھے۔ تشريح : مَا لَا يُرَدُّ مِنَ الْهَدِيَّةِ : علامہ بن حجر کے نزدیک یہ باب ترندی کی مرفوع روایت مدنظر رھ کرتا قائم کیا گیا ہے جو حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ تین اشیاء کا ہد یہ رڈ نہ کیا جائے ۔ الْوَسَائِدُ وَالدُّهْنُ وَاللَّبَنُ۔ (ترمذى، كتاب الأدب عن رسول الله، باب ما جاء في كراهية ردّ الطيب) تکیہ، تیل ، خوشبو اور دودھ۔ یہ روایت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی شرائط کے مطابق نہیں۔ اس لئے حضرت انس کی مندرجہ بالا روایت پر اکتفا کیا گیا الفاظ قَالَ الْبُخَارِيُّ الْكَلَامُ الْآخِيرُ قِصَّةُ فَاطِمَةَ يُذْكَرُ ۔۔۔۔ مجہول کے صیغہ سے نیز بغیر نام عَنْ رَجُلٍ کہہ کر امام بخاری نے اشارہ کیا ہے کہ یہ واقعہ اپنی صحت کے لحاظ سے بھی محل نظر ہے۔ (از مرتب)