صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 628 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 628

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۲۸ ۱ ۵ - كتاب الهبة قَالَ الْبُخَارِيُّ الْكَلَامُ الْأَخِيْرُ قِصَّةُ بخاری نے کہا: یہ آخری بات یعنی حضرت فاطمہ کا فَاطِمَةَ يُذْكَرُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ واقعہ ہشام بن عروہ سے بیان کیا جاتا ہے۔ ہشام رَجُلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نے ایک شخص سے، اس نے زہری سے، زہری نے محمد بن عبدالرحمن سے روایت کی اور ابومروان نے عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ وَقَالَ أَبُو مَرْوَانَ عَنْ ہشام سے، ہشام نے عروہ سے روایت کرتے ہوئے هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ: كَانَ النَّاسُ بیان کیا۔ لوگ ہدیئے دینے کے لئے حضرت عائشہ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ۔ کی باری کو زیادہ مناسب سمجھا کرتے تھے۔ ☆ { وَعَنْ هِشَامٍ } عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ اور ہشام سے بھی مروی ہے ۔ وہ ایک قریشی وَرَجُلٍ مِنَ الْمَوَالِي عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ شخص سے اور ایک آزاد کردہ غلام سے بھی روایت مُّحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ کرتے تھے۔ ان دونوں نے زہری سے، زہری نے ابْنِ هِشَامٍ: قَالَتْ عَائِشَةُ : كُنْتُ محمد بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے روایت کی عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ که حضرت عائشہ کہتی تھیں : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فَاسْتَأْذَنَتْ فَاطِمَةُ۔ اطرافه: ٢٥٧٤، ٢٥٨٠، ٣٧٧٥۔ -------- پاس تھی کہ فاطمہ نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ تشريح : مَنْ أَهْدَى إِلَى صَاحِبِهِ وَتَحَرَّى بَعْضَ نِسَائِهِ دُونَ بَعْضٍ : امام ابن حجر نے اس باب کی تشریح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کریم سے متعلق ایک لطیف تبصرہ کیا ہے کہ اخلاق فاضلہ ہدایا وغیرہ بھجوانے کے متعلق کسی کے متعلق کسی کو ہدایات دینے میں مانع ہیں۔ اگر حضور صحابہ سے یہ فرماتے کہ ایک بیوی کی باری سے تخصیص نہ کی جائے جس بیوی کے ہاں حضور تشریف فرما ہوں وہاں ہدیہ بھیج دیا جائے تو اس میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ بھیجے جانے کا اشارہ ہوتا ۔ اس لئے حضور نے اسے بھی گوارا نہ فرمایا اور خاموشی اختیار کی ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۵۶) ہدیہ دینے یا نہ دینے میں ہر شخص آزاد ہے، جسے چاہے دے یا نہ دے۔ ایسی باتوں میں مداخلت یا فرمائش نزاہت نفس اور خلق عظیم کے منافی ہے۔ عورتوں کو عدل کے بارے میں بھی غلط فہمی تھی۔ عدل کا تعلق خاوند کی ذات سے ہے نہ دوسرے لوگوں کی مرضی سے۔ اس کے علاوہ اکل و شرب اور مسکن و ماوی کا جو تعلق ہے اس میں شریعت نے مرد کو پابند کیا ہے کہ ایک سے زیادہ ح الفاظ ”وَعَنْ هِشَامٍ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۲۵۴) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔