صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 614
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۱۴ ۱ ۵ - كتاب الهبة أَبْيَاتِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دیکھتے؛ اس طرح دو مہینے گزر جاتے اور رسول اللہ وَسَلَّمَ نَارٌ۔ فَقُلْتُ : يَا خَالَةُ مَا كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی ۔ يُعِيْشُكُمْ؟ قَالَتِ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ میں نے کہا : خالہ ! آپ کا گزارہ کن چیزوں پر ہوتا وَالْمَاءُ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُوْلِ اللهِ تھا؟ انہوں نے کہا: دو سیاہ چیزیں کھجور اور پانی ، مگر یہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيْرَانٌ مِّنَ بات تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری الْأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ وَكَانُوْا بمائے تھے۔ ان کی دودھ دینے والی بکریاں تھیں اور يَمْنَحُوْنَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دودھ سے بطور تحفہ بھیجا کرتے تھے اور آپ ہم کو بھی پلاتے ۔ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهِمْ فَيَسْقِيْنَا ۔ اطرافه: ٦٤٥٨، ٦٤٥٩۔ تشريح : الْهَبَةُ وَفَضْلُهَا وَالتَّحْرِيضُ عَلَيْهَا: هِبَة اسم مصدر ہے وَهَبَ يَهِبْ ؟ ب سے جیسے وَعَدَ يَعِدُ عِدَةٌ هِبَةٌ کے لغوی معنی ہیں عطیہ، ہدیہ اور ایسی شئے کی بخشش جس سے نفع کمایا جا سکتا ہو اور اصطلاح نہ شریعت و قانون میں تَمْلِيكُ شَيْءٍ بِلا عِوَضٍ۔ یعنی بغیر معاوضہ کوئی شئے دوسرے کی ملکیت میں اس نیت سے دے دینا کہ مائے الہی اور ثواب حاصل ہو ۔ لا حاصل ہو ۔ لفظ هبة کا ہدیہ پر اطلاق لغوی معنوں میں ہوتا ہے۔ ہدایا کے لینے دو ہدایا کے لینے دینے میں بھی اطاعت الہی مقصود ہو سکتی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تَهَادَوُا تَحَابُّوا ۔ ایک دوسرے کو ہدیہ دو اور آپس میں تعلقات پیدا کرو۔ ہدیہ میں نمایاں غرض تعلقات کی استواری ہی ہے۔ امام بخاری نے کتاب الهبة میں ہبہ کی مختلف قسمیں ترتیب سے بیان کی ہیں جن میں سے ایک عام اور معروف قسم ہدیہ و تحفہ ہے۔ شروع میں بطور تمہید کھانے پینے کی اشیاء کا ذکر ہے جو ایک ہمسایہ اپنے ہمسائے کو بصورت ہدیہ یا تحفہ دیتا ہے۔ مندرجہ بالا دونوں روایتوں میں ایسے ہی ہدایا؟ ہبہ میں شمار کئے گئے ہیں جن کا رواج عرف عام میں ہے۔ فرسن کھر کی آخری ہڈی کو کہتے ہیں جس پر گوشت کم ہوتا ہے۔ یہ لفظ اُونٹ کے پاؤں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور مجازاً بکری کے پاؤں کے لئے بھی مستعمل ہے اور لفظ حافر گھوڑے کے سم کے لئے ۔ مراد یہ ہے کہ حقیر مئے بھی ہدیہ میں قبول کی جائے ۔ مَنائِح ، منیحہ کی جمع ہے۔ اس کے معنی اس دودھیل جانور کے ہیں جو بطور عطیہ کسی کو دیا جائے ۔ یہ لفظ اُونٹنی کے لئے خاص ہے اور بطور استعارہ بکری کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۴۴ تا ۲۴۶) مذکورہ بالا روایتیں مسائل ہبہ کے لئے بطور تمہید ہیں اور ان میں بتایا گیا ہے کہ ہبہ کا اصل ماخذ و منبع فطرت بشریہ میں پایا جاتا ہے جو اصل بنیاد ہے اس موڈت کی جو بنی نوع انسان میں موجود ہے اور شریعت میں نیت کی وجہ سے عمل صالح کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ح الأدب المفرد للبخارى، باب قبول الهدية روایت نمبر (۵۹۴)