صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 615
صحيح البخاری جلدم ۶۱۵ بَاب ٢ : الْقَلِيْلُ مِنَ الْهَبَةِ تھوڑی سی چیز ہبہ کرنا ۱ ۵ - كتاب الهبة ٢٥٦٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۵۶۸ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عدی نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے شعبہ سے،شعبہ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نے سلیمان (اعمش ) سے ،سلیمان نے ابوحازم سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ ہ سے حضرت ابوہریرہ یہ ، نے نبی عنہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا کہ اگر وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ دُعِيْتُ إِلَى ذِرَاعٍ أَوْ مجھے بکری کی ایک دتی یا پا یہ کھانے کی دعوت دی جائے كُرَاعِ لَأَجَبْتُ وَلَوْ أَهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ تو میں (اس دعوت کو) ضرور قبول کروں اور اگر بکری کی دستی یا پا یہ مجھے بطور ہدیہ بھیجا جائے تو میں اس کو او كُراع لقبلت طرفه: ۵۱۷۸ ضرور لے لوں۔راوی کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے لفظ ذِراع فرمایا یا كُراع تشریح: لَوْ دُعِيْتُ إِلَى ذِرَاعٍ أَوْ كُرَاعٍ لَّا جَبْتُ: ذِرَاعٌ سُنے سے اوپر کا حصہ ہے اور كُرَاعٌ ٹخنے سے نیچے کا حصہ یعنی کھر (عمدۃ القاری جز ۳۰ صفحه ۱۲۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ معمولی کی دعوت طعام یا ادنی سا ہدیہ بھی میں رد نہ کروں گا۔طبرانی نے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ام حکیم الخزاعیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ ہدیہ نا پسند فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مَا أَقْبَحَهُ لَوْ أَهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ ہدیہ کا رد کرنا بہت ہی مکر وہ بات ہے۔اگر مجھے پائے یا کھر کی دعوت دی جائے تو میں وہ بھی قبول کرلوں۔قرآن مجید نے رڈی شئے بطور ہدیہ قبول کرنا عمدہ اخلاق میں سے شمار فرمایا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام حکیم خزاعیہ آنحضرت علی کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کرنا چاہتی تھیں اور وہ گھبراتی تھیں کہ نہ معلوم ان کا ہدیہ حضور کی شان کے شایان ہے یانہیں۔آنحضرت علیہ کے جوابات سے راستہ کھل گیا کہ تحفہ دینے والا اور تحفہ لینے والا یہ خیال نہ کرے کہ حقیر شئے ہے جس کا لینا دینا خلاف شان ہے۔آپ کے مذکورہ بالا ارشاد میں احساس مہتری اور احساس کمتری دونوں کا علاج ہے جو ایک ایسی لعنت ہے جس سے معاشرہ میں طبقاتی تفاوت پیدا ہو جاتا ہے۔ایک طبقہ اُونچا کہلاتا ہے اور دوسرا نیچا۔اس تقسیم سے اجتماعی شیرازہ بکھر جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے مذکورہ بالا ارشاد سے تفاوت دور کر دینا چاہا ہے۔تَهَادَوْا وَتَحَابُّوا (المعجم الكبير للطبراني من يعرف من النساء بالكنى ام حكيم بنت وداع الخزاعية جزء ۲۵ صفحه ۱۶۲) موطأ امام مالک، کتاب الجامع، باب ما جاء في المهاجرة)