صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 606
البخاري - جلدم ۶۰۶ ۵۰- كتاب المكاتب اس کی مکاتبت اور حق وراثت کے بارے میں اعلان فرما دیا تھا۔قیمت کی ادائیگی بعد میں ہوئی۔پرانے بزرگوں نے بھی مسئلہ معنونہ کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر مکاسب آدھی قیمت ادا کر دے پھر بھی وہ ابھی قرضدار ہے۔انہی سے ایک روایت یہ بھی آتی ہے کہ وہ جس قدر رقم ادا کر چکا، اتنا آزاد ہوگا۔حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ اگر معاوضہ دوصد در ہم ٹھہرایا گیا ہو اور غلام کا اصل معاوضہ در اصل ایک صد درہم ہو اور یہ ادا ہو جائے تو وہ آزاد ہوگا۔عطاء بن ابی رباح کے نزدیک تین چوتھائی ادا ہونے پر وہ آزاد ہو گا۔امام نسائی نے حضرت ابن عباس کی مرفوع حدیث نقل ہے کے مکاتب غلام بقد ر ادا ئیگی آزاد ہوگا۔جمہور کا استدلال حضرت عائشہؓ کی روایت زیر باب سے ہے جو مستند ومتفق علیہ حدیث ہے کہ بریر مکاتبت کے بعد فروخت ہوئیں اور اگر وہ بغیر ادا ئیگی حقیقتا آزاد ہو تیں تو ان کی بیع درست نہ ہوتی کیونکہ آزاد نہیں بچا جاسکتا ہملوک بیچا جاتا ہے۔(فتح الباری جزء۵ صفحه ۲۴۰، ۲۴۱) اشْتَرِيْهَا وَأَعْتِقِيهَا : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا: اِشْتَرِبُهَا وَأَعْتَقِيْهَا۔اس مالکوں سے خرید لو اور آزاد کر دو۔اس سے جہاں تک مکاتب غلام کی بیچ کا جواز ثابت ہوتا ہے وہاں یہ امر بھی ظاہر ہے کہ از روئے معاہدہ مکاتبت کی حیثیت بین بین ہے۔وہ ایک آزاد انسان کی طرح اپنی مرضی کا مالک ہے۔عنوان باب میں الفاظ إِذَا رَضِی سے اس حیثیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کیونکہ اگر بریرہ مکاتبت کے بعد لونڈی کی حیثیت میں ہی ہوتیں تو وہ اپنے ارادے سے اپنے متعلق فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتی تھیں۔انہوں نے اپنی رضامندی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تجویز پر عمل کیا۔یہ ایک تدبیر تھی کہ ورثہ کا جھگڑا جو مالکوں نے اٹھایا ہے وہ ختم ہو جائے۔بریرہ کی بیع کے بعد مالک حضرت عائشہ تھیں اور اسے آزاد کئے جانے کے بعد اس کے ورثے کا حق بھی حضرت عائشہ کا تھا، نہ ان کا جو اس کی مکاتبت کے بارے میں مُصر تھے کہ اس کے ورثہ کا حق انہیں حاصل ہوگا، جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے باطل قرار دیا کہ یہ شرط کتاب اللہ میں نہیں ، نہ اس آیت میں جہاں مکاتبت کا ارشاد ہے، نہ اس آیت میں جہاں ورثہ کی تقسیم کے بارے میں احکام ہیں۔بَابه : إِذَا قَالَ الْمُكَاتَبُ اشْتَرِنِي وَأَعْتِقْنِي فَاشْتَرَاهُ لِذَلِكَ اگر مکاتب ( کسی سے) کہے: مجھے خرید لو اور آزاد کر دو، پھر وہ اس غرض کے لئے اسے خرید لے تو یہ جائز ہوگا ٢٥٦٥: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۲۵۶۵: ابونعیم نے ہمیں بتایا کہ عبدالواحد بن ایمن عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ: حَدَّثَنِي نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میرے باپ آسیمن أَبِي أَيْمَنُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ نے مجھ سے بیان کیا، کہتے تھے: میں حضرت عائشہ الله عَنْهَا فَقُلْتُ : كُنْتُ غُلَامًا رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور میں نے کہا: میں ابو لہب رَضِيَ