صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 605
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۰۵ ۵۰ - كتاب المكاتب تشريح : بَيْعُ الْمُكَاتَبِ إِذَا رَضِيَ : بَيْعُ الْمُات کے معنی ہیں مکاتب کا معاہدہ کرنے والا غلام مکاتبت کا ؛ غلام اور لونڈی کی بیچ یا ان دونوں کی طرف سے بیع کا صادر ہونا۔ سابقہ باب میں بتایا جا چکا ہے کہ اگر غلام یا لونڈی کے پاس مال نہ ہو یا وہ کوئی ہنر نہ جانتے ہوں تو ان کی آزادی کے لئے بھی مکاتبت کا راستہ کھلا ہے۔ بعض فقہاء کا استدلال کہ غلام چونکہ اپنے مالک کا مملو کہ مال ہے وہ اپنے آپ کو بیع نہیں کر سکتا، یہ استدلال درست نہیں۔ L فقہاء نے یہ سوال بھی اُٹھایا ہے کہ مقرر کردہ رقم کی ادائیگی تک کیا لونڈی غلام آزاد ہوں گے یا اس وقت تک غلام ہی رہیں گے جب تک کہ ساری رقم ادا نہ ہو جائے۔ معنونہ مسئلہ کے ساتھ بعض حوالے دیئے گئے ہیں۔ پہلا حوالہ حضرت عائشہ کا ہے جس سے ثابت کیا گیا ہے کہ غلام غلامی کی حالت ہی میں رہتا ہے جب تک کہ اس کے ذمے کچھ رقم باقی ہے۔ یہ حوالہ ابن ابی شیبہ اور ابن سعد نے موصول نقل کیا ہے کہ سلیمان بن بسیار سے مروی ہے : قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ سُلَيْمَانُ فَقُلْتُ سُلَيْمَانُ فَقَالَتْ أَدَّيْتَ مَا بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ كِتَابَتِكَ وَقَاطَعْتَ عَلَيْهَا قَالَ قُلْتُ نَعَمُ إِلَّا شَيْئًا يَسِيرًا قَالَتِ ادْخُلُ فَإِنَّكَ عَبْدٌ مَّا مَّا بَقِيَ عَلَيْكَ شَيْءٌ یعنی سلیمان بن یسار نے کہا: میں نے حضرت عائشہ سے (اندر آنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے پوچھا: سلیمان؟ میں نے کہا: سلیمان ۔ فرمایا: تمہارا مکاتبت کا جو حصہ باقی تھا وہ ادا کر دیا ہے؟ اور اس کی قسطیں ادا کر دی ہیں ؟ کہتے تھے: میں نے کہا: ہاں؟ سوائے تھوڑے سے حصہ کے۔ انہوں نے فرمایا: اندر آ جاؤ جب تک تمہارے ذمہ کچھ باقی ہے تم غلام ہو۔ امام طحاوی نے بھی اسی مفہوم کی ایک روایت نقل کی ہے کہ سالم نے جو بنو نضر کے آزاد کردہ غلام تھے، حضرت عائشہ سے کہا کہ اب تو آپ مجھ سے پردہ کریں گی۔ آپ نے پوچھا: کیوں؟ سالم نے کہا: میں نے مکاتبت کی ہے۔ تو آپ نے فرمایا: إِنَّكَ عَبْدَ مَا بَقِيَ عَلَيْكَ شَيْءٌ ۔ " جب تک تمہارے ذمہ کچھ باقی ہے تم غلام ہو ۔ (غلاموں سے پردہ نہ تھا۔) دوسرا حوالہ حضرت زید بن ثابت کے فتویٰ کا ہے جو انہی معنوں میں ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور سعید بن منصور نے موصولاً نقل کیا ہے۔ تیسرا حوالہ حضرت ابن عمرؓ کے فتوی کا ہے جو امام مالک نے بسند نافع مولی عبداللہ بن عمر نقل کیا ہے ۔ ان کا فتوی بھی یہی ہے کہ الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَّا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَم ۔ * یعنی وہ غلام ہی ہے جب تک کہ اس پر ایک درہم بھی باقی ہو جیسے رہن کی صورت ہے۔ جب تک کہ رقم پوری ادا نہ ہو ، فک رہن نہیں ہو سکتا ۔ ابو داؤد، نسائی نے بھی حضرت عبداللہ بن عمرو سے ایسا ہی نقل کیا ہے۔ حاکم سے بھی ان کا یہی فتویٰ منقول ہے ۔ کہ جمہور کا مذہب بھی یہی ہے ۔ انہوں نے اس بارہ میں حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے استدلال استدلال کیا ہے۔ اس خاتون نے اپنی مکاتبت کی رقم سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کے مصنف ابن ابی شیبه کتاب البيوع والاقضية، باب في المكاتب عبد ما بقى عليه شيء جز ۴ صفحه ۳۱۷) (معانى الآثار للطحاوى، كتاب العتاق، باب المكاتب متى يعتق، جزء ۳ صفحه ۱۱۲) (مسند الشافعى، كتاب العتق الباب الثالث في المكاتب) (مؤطا امام مالک، کتاب المكاتب باب القضاء في المكاتب) مصنف ابن ابی شیبه، كتاب البيوع، باب في المكاتب عبد ما بقى عليه شيء، جز ۴۶ صفحه ۳۱۶) (ابوداؤد، كتاب العتق ، باب فى المكاتب يؤدى بعض كتابته فيعجز او يموت ك (المستدرک حاکم، کتاب المكاتب، جزء ۲ صفحه ۲۳۷) 71