صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 34 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 34

صحيح البخاری جلد ۴ سهام عام ۳۴- كتاب البيوع ، سَمْحًا صفت مشبہ ہے اور لفظ سماحت سے مشتق ہے اور اس کا مترادف یعنی ہم معنی لفظ اردوزبان میں نہیں۔اس کے معنوں میں سہولت معاملہ ، نرمی سلوک، شیریں کلامی، کشادہ دلی ، خندہ پیشانی، خوش خلقی، وسعت حوصلہ اور درگذر و غیره کا مفہوم پایا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ صفت تجارتی کاروبار کو فروغ دینے میں نہایت ضروری ہے۔عربی میں مثل ہے۔السَّمَاحُ رَبَاحٌ - (لسان العرب - سمح ) یعنی ساحت نفع ہی نفع ہے۔اس صفت کے مقابل ترش روئی ، بخل، تنگ ظرفی اور تلخ کلامی وغیرہ بری خصلتیں ہیں جو برعکس نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔مذکورہ بالا نصیحت نبوی تاجر اور خریدار دونوں کے لئے یکساں مفید ہے۔وَمَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبُهُ فِى عَفَافِ : عنوانِ باب کے الفاظ جیسا کہ امام ابن حجر نے رائے ظاہر کی ہے، ابن ماجہ وغیرہ کی روایتوں سے اخذ کئے گئے ہیں جو حضرت ابن عمرؓ اور حضرت عائشہؓ سے مرفوعاً منقول ہیں : مَنُ طَالَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبُهُ فِى عَفَافٍ وَافٍ اَوْ غَيْرِ وَافٍ ابن ماجه ، كتاب الأحكام، باب حسن المطالبة وأخذ الحق فى عفاف) (فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۳۸۸) مطالبہ حق میں عفیف ہو۔یعنی دامن اخلاق ہاتھ سے نہ چھوڑے، کچھ کمی کرنی پڑے تو خواہ کرے یا نہ کرے۔لیکن مطالبہ میں حریص اور بد خلق نہ ہو۔عَفَافٌ وَعِفَّةٌ کے معنی ہیں بھی سے بچنا۔(لسان العرب -عفف) امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک حضرت جابر بن عبد اللہ والی روایت مذکورہ بالا بلحاظ صحت وضبط الفاظ زیادہ صحیح اور مستند ہے اور اپنے مفہوم میں وسیع تر اور جوامع الکلم میں سے ہے۔یہ کلمات دعائیہ بھی ہیں اور خبر یہ بھی۔دونوں صورتوں میں بابرکت ہیں کہ غیر اقوام تجارت پیشہ نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو عملی اپنایا ہے جبکہ مدعیان محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس قیمتی اور پیاری نصیحت سے عموما کورے ہو چکے ہیں۔بَابِ ۱۷ : مَنْ أَنْظَرَ مُوْسِرًا جو آسودہ حال کو مہلت دے ۲۰۷۷: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۲۰۷۷ : احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُوْرٌ أَنَّ رِبْعِيَّ نے ہمیں بتایا کہ منصور نے ہم سے بیان کیا۔ربعی بن ابْنَ حِرَاشٍ حَدَّثَهُ أَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ حراش نے ان کو بتایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ان سے بیان کیا، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوْحَ لوگوں میں جو تم سے پہلے تھے، ملائکہ نے جب ایک رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَقَالُوا أَعَمِلْتَ شخص کی روح کا استقبال کیا تو انہوں نے کہا: کیا تو نے