صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 35 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 35

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۵ ۳۴- كتاب البيوع مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَالَ: كُنْتُ آمُرُ فِتْيَانِي کوئی نیک کام کیا ہے؟ تو اُس نے کہا: میں اپنے أَنْ تُنْظِرُوْا وَيَتَجَاوَزُوْا عَنِ الْمُوْسِرِ نوجوانوں کو یہ حکم دیا کرتا تھا کہ وہ آسودہ حال کو مہلت قَالَ { قَالَ } فَتَجَاوَزُوْا عَنْهُ قَالَ دیا کریں اور اس سے در گذر کریں۔( حضرت حذیفہ عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو مَالِكِ: عَنْ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: فرشتوں نے بھی رِبْعِيَ كُنْتُ أُيَسِرُ عَلَى الْمُؤسِرِ وَأُنْظِرُ اس سے درگذر کی۔ابوعبداللہ (امام بخاریؒی) نے کہا: اور ابو مالک نے ربعی سے یوں نقل کیا ہے : میں آسودہ حال الْمُعْسِرَ۔وَتَابَعَهُ شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ سے نرمی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تھا۔شعبہ عَنْ رِبْعِيِّ۔وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ: عَنْ نے بھی ربعی سے بروایت عبدالملک ابومالک کی عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ رِبْعِي أَنْظِرُ الْمُوْسِ طرح بیان کیا۔اور ابوعوانہ نے بروایت عبد الملک وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ۔وَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ ربعی سے یوں نقل کیا کہ میں آسودہ حال کو مہلت دیتا أَبِي هِنْدِ عَنْ رِبْعِيّ: فَأَقْبَلُ مِنَ الْمُوْسِرِ اور تنگ دست سے در گذر کرتا تھا۔اور نعیم بن ابی ہند نے ربعی سے یوں نقل کیا کہ میں آسودہ حال سے وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ۔اطرافه: ۲۳۹۱، ٣٤٥۱ تشریح: ( عذر ) قبول کر لیتا تھا اور تنگدست سے درگذر کرتا۔مَنْ أَنْظَرَ مُؤسِرًا : سماحت نفس کا مضمون واضح کرنے کے لئے تین باب ( نمبر ۱۶، ۱۷، ۱۸) قائم کئے گئے ہیں۔اس باب (نمبر ۱۷) میں آسودہ حال کو اور اگلے باب ( نمبر ۱۸) میں تنگدستوں کو مہلت دینے کا ذکر ہے اور بیع وشراء میں اس امر کو بہت بڑی اہمیت دی گئی ہے کہ خیر خواہی مد نظر ہو اور پوری پوری صراحت سے کام کیا جائے اور کسی قسم کی پوشیدگی اس میں نہ ہو۔بعض وقت آسودہ حال بھی ایسی حالت میں ہو جاتا ہے کہ وہ نقد خریداری یا وقت پر ادائیگی کی طاقت نہیں رکھتا اور مہلت کا محتاج ہوتا ہے۔ارشاد نبوی میں دونوں قسم کے لوگوں سے ساحت نفس کا سلوک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔روایت نمبر ۲۰۷۷ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے، یہ صحیح مسلم میں مرفوعاً مروی ہے کہ ایک شخص روز قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوگا اور وہ اُس سے پوچھے گا: مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا۔۔۔۔قَالَ يَا رَبِّ آتَيْتَنِي مَالَكَ فَكُنْتُ أَبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلْقِي الْجَوَارُ فَكُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوْسِرِ وَانْظِرُ الْمُعْسِرَ فَقَالَ اللهُ أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِى (مسلم، كتاب المساقاة، باب فضل إنظار المعسر) یعنی تو نے دنیا میں کیا عمل کئے جو تو سمجھتا تھا کہ اس کا نیک بدلہ ملے گا ؟ تو وہ کہے گا کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے اپنا مال عمدة القاری میں اس جگہ الفاظ قَالَ قَالَ فَتَجَاوَزُوا عَنْهُ ہیں (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۱۸۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔