صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 33 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 33

صحيح البخاری جلد ۴ ٣٣ ۳۴- كتاب البيوع حضرت داؤد علیہ السلام کی مثال دی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذریعہ معاش بہترین قرار دیا ہے۔ پانچویں اور چھٹی روایت میں جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لانے اور بیچنے کا ذکر ہے جو محنت و مشقت چاہتا ہے اور اس میں تجارت کی بھی صورت ہے۔ علم اقتصاد نے اقسام محنت کے لئے دو اصطلاحیں تجویز کی ہیں۔ ایک منتج یعنی پیدا کرنے والے کام ۔ مثلاً زراعت، حرفت اور صناعت ۔ اور دوسری قسم غیر منتج، یعنی وہ کام جو خود تو پیدا نہیں کرتے ، البتہ پیداوار کو مصرف میں لانے والے ہیں۔ مگر یہ اصطلاحیں بھی در حقیقت نسبتی ہیں۔ مثلاً حکومت کے کارکن پیداوار اور افزائش دولت کے نظام میں اس لحاظ سے محمد کارکن ہیں کہ وہ ملک میں امن عامہ بحال رکھتے ہیں۔ چوری جب تک کسی ملک سے غائب نہ ہو جائے تب تک کوئی پیشہ ور یا تاجر اطمینان سے کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا جو نتیجہ خیز ہو۔ اسی لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے روایات کی ترتیب میں تدبیر مملکت کو نمبر اول پر رکھا ہے۔ باب کی آخری روایت نا تمام ہے۔ فقره لأن يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ۔۔۔ پر ہی روایت ختم کر دی ہے، یہ بتانے کے لئے کہ بعض روایتوں میں حُزمة یعنی گھٹے کی جگہ لفظ احْبُلَهُ ( جو حَبْل یعنی رسی کی جمع ہے ) وارد ہوا ہے۔ بَاب ١٦ : السُّهُولَةُ وَالسَّمَاحَةُ فِي الشَّرَاءِ وَالْبَيْعِ وَمَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْهُ فِي عَفَافٍ خرید و فروخت میں آسانی اور نرمی اختیار کرنا اور جو (اپنے) حق کا مطالبہ کرے تو اُسے چاہیے کہ وہ نرمی کرے ٢٠٧٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ۲۰۷۶ علی بن عیاش نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفِ ابو غسان محمد بن مطرف نے ہمیں بتایا، کہا کہ محمد بن قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ روایت کرتے تے ہوئے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اُس خوش خلق رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : شخص پر رحم کرے (جوانی خوش خلقی کا نمونہ اس وقت رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ وَإِذَا دکھاتا ہے) جب وہ بیچے اور جب وہ خریدے اور اشْتَرَى وَإِذَا اقْتَضَى۔ جب وہ تقاضا کرے۔ تشريح : السُّهُولَةُ وَالسَّمَاحَةُ فِي الشَّرَاءِ وَالْبَيْعِ : اس باب میں بتایا گیا ہےکہ جس کام کی بنیاد اخلاق فاضلہ پر قائم ہو، وہ مبارک نتائج کا حامل ہوتا ہے۔ اُسے قبولیت و فروغ اور دوام حاصل ہوتا ہے۔ ------