صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 577
صحيح البخاری جلدم ۴۹ - كتاب العتق هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ کے اموال آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ ہماری مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ : أَعْتِقِيْهَا فَإِنَّهَا قوم کے زکوة کے اموال ہیں اور اُن میں سے ایک قیدی عورت حضرت عائشہ کے پاس تھی تو آپ نے فرمایا: اسے مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيْلَ۔طرفه: ٤٣٦٦۔تشریح آزاد کر دو کیونکہ یہ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ہے۔مَنْ مَّلَكَ مِنَ الْعَرَبِ رَقِيقًا فَوَهَبَ وَبَاعَ وَجَامَعَ وَفَدَى وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ: عنوان باب میں چھ مسئلوں کا ذکر ہے: اکسی عرب کو غلام بنانا ۲۔اُس کا ہبہ کرنا۔یا بیچنا ۴۔فدیہ لے کر جنگی قیدی آزاد کرنا ۵۔بچوں کو قیدی بنانا ۶۔لونڈی کے بچے کی حیثیت۔یہ مشہور فقہی مسئلے ہیں جن کے بارے میں فقہاء نے مختلف اعتبار سے الگ الگ نظریے قائم کئے ہیں۔جمہور کے نزدیک غلام کے بارے میں خواہ وہ عرب کا ہو یا عجم کا کوئی فرق نہیں اور لونڈی سے شادی کے نتیجہ میں مولود حسب سمجھوتا غلام یا آزاد متصور ہوگا۔امام اوزاعی اور امام ثوری وغیرہ کے نزدیک وہ آزاد قرار دیا جائے گا بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک ماں بھی آزاد متصور ہوگی۔جمہور کا مذہب بھی یہی ہے کہ بچے آزادی یا غلامی میں ماں کے تابع ہیں۔اگر ماں بحیثیت اتم الولد آزاد ہو تو بچے بھی آزاد ہوں گے اور اگر وہ آزاد نہ ہو تو یہ بھی آزاد نہ ہوں گے اور ایک شاذ رائے یہ بھی ہے کہ اگر باپ عربی النسل ہو تو بچے آزاد متصور ہوں گے ورنہ نہیں۔تفصیل کیلئے بداية المجتهد كتاب امهات الاولاد المسئلة الأولى، جزء ثانی، صفحه ۲۹۵،۲۹۴ نیز فتح الباری جزء۵ صفحه ۲۱۱ نیز عمدۃ القاری جلد ۱۳ صفحہ ۱۰۰ دیکھئے۔مذکورہ بالا فقہی مسائل کا حل احادیث زیر باب میں موجود ہے۔جواز ہبہ کا حل پہلی روایت میں ہے۔فدیہ دوسری روایت سے ثابت ہے جو حضرت انس سے زیر باب اا گزر چکی ہے اور بچوں کے بطور قیدی رکھنے کا جواز تیسری روایت (نمبر ۲۵۴۱) سے اور مباشرت کا جواز چوتھی روایت (نمبر ۲۵۴۲) سے جس کے راوی حضرت ابو سعید خدری نہیں جنہوں نے عزل کے بارے میں فتویٰ پوچھا تھا اور لونڈی غلام کو آزاد کرنے سے متعلق ارشاد نبوی روایت (نمبر ۲۵۴۳) کی دوسری سند میں نقل کیا گیا ہے۔ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا۔عنوان باب میں مندرجہ آیت کے منشاء و مدعا کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو اصل موضوع ہے اس باب کا۔پوری آیت یہ ہے: ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَنْ رَّزَقْنَهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا هَلْ يَسْتَوُونَ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ) (النحل : 1 - ) یعنی اللہ تمہارے سمجھانے کے لئے ایک ایسے بندے کی مثال بیان کرتا ہے جو غلام ہو اور کسی بات کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو اور اس کے مقابلہ میں اس بندہ کی مثال بھی جسے ہم نے اپنے پاس سے اچھا رزق دیا ہو اور وہ اس میں سے پوشیدہ طریق سے بھی خرچ کرتا ہو اور اعلانیہ طور پر بھی۔کیا یہ دونوں قسم کے انسان برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ہر خوبی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔قابل غور سوال یہ ہے کہ محولہ بالا آیت کا مسائل معنونہ کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ابن منیر کا خیال ہے کہ اس آیت میں ط