صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 575
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۷۵ ۴۹ - كتاب العتق وَقَالَ أَنَسٌ : قَالَ عَبَّاسٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اور حضرت انس کہتے تھے کہ حضرت عباس نے نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {فَادَيْتُ نَفْسِي } صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں نے اپنا * فدیہ بھی وَفَادَيْتُ عَقِيلًا۔ اطرافه ٤٢١، 3049، 3165۔ دے دیا ہے اور عقیل کا بھی۔ ٢٥٤١ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ۲۵۴۱ علی بن حسن نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ : ( بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعِ فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ النَّبِيَّ عبد اللہ ابن عون نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے: میں نے نافع کو لکھا تو انہوں نے مجھے جواب میں یہ لکھا کہ نبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَى بَنِي صلی الہ علیہ وسلم نے بنی مطلق پرحملہ کیا۔ وہ غفلت الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُوْنَ وَأَنْعَامُهُمْ میں تھے اور ان کے مواشی کو پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ نے ان میں سے لڑنے والوں کو جنگ میں قتل کر دیا وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا اور اسی جنگ میں جُوَيْرِيَةَ۔ حَدَّثَنِي بِهِ ابْنُ عُمَرَ وَكَانَ حضرت جویریہ آپ کو آپ کے ) حصے میں ملیں ۔ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ۔ ( نافع نے کہا: ) یہ واقعہ حضرت (عبداللہ بن عمرؓ نے مجھے بتایا تھا اور وہ اس لشکر میں شامل تھے۔ ٢٥٤٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۲۵۴۲ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى سے ، ربیعہ نے محمد بن یحی بن حبان سے، انہوں نے ابْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزِ قَالَ : رَأَيْتُ ( عبد الله بن محیریز سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: میں حضرت ابوسعید ( خدری ) رضی اللہ عنہ سے ملا۔ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ان سے میں نے ( عزل کا مسئلہ ) پوچھا تو انہوں نے وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بنی مصطلق کی الفاظ فَادَيْتُ نَفْسِي فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء۵ حاشیہ صفحہ ۲۱۰) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔