صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 574 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 574

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۷۴ ۴۹ - كتاب العتق انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِيْنَ قَفَلَ اس لئے دیر کی تھی کہ تم آجاؤ۔اور نبی ﷺ نے ، جب مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيُّ آپ طائف سے واپس لوٹے ، اس پر دس سے کچھ زائد راتیں ان کا انتظار کیا تھا۔جب انہیں یہ اچھی طرح صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍ إِلَيْهِمْ إِلَّا مَلوم ہو گیا کہ نبی ﷺ ان کو دو چیزوں میں سے ایک إحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا: پھر ہم اپنے سَبْيَنَا فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قیدیوں کو لینا پسند کرتے ہیں۔اس پر نبی ﷺے لوگوں کے فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ در میان خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ تعریف کی جو اس کے شایانِ شان ہے۔پھر آپ نے اس کے بعد فرمایا: دیکھو! تمہارے بھائی ہمارے پاس جَاءُوْنَا تَائِبِينَ وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ تو بہ کر کے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کو سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ان کے قیدی واپس دے دوں۔اس لئے جو تم میں سے ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ بخوشی واپس کرنا چاہے تو چاہیے کہ وہ واپس کر دے اور عَلَى حَظِهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا جو یہ چاہے کہ وہ اپنے حصے پر ہی قائم رہے تو چاہیے کہ وہ بھی واپس کر دے اور اس وقت کا انتظار کرے جب يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ : اللہ تعالیٰ ہم کو اس کے بعد ) پہلا مال غنیمت دے تو ہم (اس ) طَيَّبْنَا لَكَ ذَلِكَ قَالَ: إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ اس میں سے اس کو حصہ دے دیں گے۔لوگوں نے کہا: أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَّمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوْا حَتَّى ہم حضور کے فیصلہ پر راضی ہیں۔آپ نے فرمایا : ہم يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَرَجَعَ نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی اور کس النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوْا نے اجازت نہیں دی تیم واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارے إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سربراہ ہمارے پاس تمہا را مشورہ پیش کریں۔لوگ واپس چلے گئے اور ان کے سربراہوں نے ان سے گفتگو کی۔اس فَأَخْبَرُوْهُ أَنَّهُمْ طَيِّبُوْا وَأَذِنُوْا فَهَذَا کے بعد وہ نبی ﷺ کے پاس واپس آئے اور انہوں الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبِّي هَوَازِنَ۔نے آپ کو بتایا کہ وہ لوگ خوش ہیں اور انہوں نے اجازت دے دی ہے۔( زہری نے کہا : ) سو یہ وہ خبر ہے جو ہمیں ہوازن کے قیدیوں سے متعلق پہنچی ہے۔اطرافه : ۲۳۰۷ - ۲۳۰۸، ٢٥٨٣ - ٢٥٨٤، ٢٦٠٧ - ۲٦٠٨ ، ۳۱۳۱ - ۳۱۳۲، ٤۳۱۸-٤٣١٩، ٧١٧٦-٧١٧٧۔