صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 567 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 567

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۶۷ ۴۹ - كتاب العتق بَاب ۹ : بَيْعُ الْمُدَبَّرِ اس غلام کو بیچنے کا بیان جسے اس کا مالک اپنے مرنے کے بعد آزاد قرار دے ٢٥٣٤ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ۲۵۳۴: آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا۔ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ انہوں نے کہا: ) ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ عمرو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ الله بن دینار نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا: ) میں نے عَنْهُمَا قَالَ : أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَّا عَبْدًا لَّهُ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے عَنْ دُبُرٍ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھے: ہم میں سے ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد قرار دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ بِهِ فَبَاعَهُ قَالَ جَابِرٌ: مَاتَ اُس غلام کو بلوا بھیجا اور بیچ دیا۔ حضرت جابر کہتے تھے : الْغُلَامُ عَامَ أَوَّلَ ۔ وہ غلام پہلے سال ہی مر گیا۔ إطرافه: ٢١٤١، ۲۲۳۰، ۲۲۳۱، ٢٤٠۳، ٢٤١٥، ٦٧١٦، 6947، 7186۔ تشریح : بَيْعَ الْمُدَبَّر : عنوان باب باخبر ہے۔ یہ مضمون کتاب البیوع میں زیر باب ۱۰ اروایت نمبر ۲۲۳ بھی دیکھئے۔ جہاں ایسے غلام اور لونڈی کے ضرورتا بیچنے کا جواز بیان کیا گیا؟ جسے مالک نے اپنے مرنے کے VERN بعد آزاد قرار دے دینے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ آزادی کا اعلان کرنے والا شخص اس کے بعد مفلس ہو گیا اور اس کے پاس سوائے اس غلام کے کوئی مال نہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حالات میں اس کے غلام کو آٹھ سو درہم پر بیچا جسے حضرت نعیم نے خریدا۔ (دیکھئے روایت نمبر ۶۷۱۶) ان کا پورا نام نعیم بن عبداللہ بن اسید بن عبد بن عوف ہے۔ یہ قرشی عددی ہیں۔ حضرت عمرؓ سے قبل مسلمان ہوئے تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو پوشیدہ رکھا۔ انہوں نے ہجرت کرنی چاہی تو خاندان کے لوگوں نے کہا: تم اپنے دین پر ہی رہو۔ ہمیں تمہارے عقیدے سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ اپنے خاندان کے یتامیٰ اور بیوگان پر خرچ کرتے تھے۔ صلح احدیبیہ حدیبیہ کے کے موقع مورق پر انہوں ہوں ۔ نے ہجرت کی۔ (فتح صح الباری الباری ج جزء صفحه (۲۰۵) ۵ لونڈی اور غلام آزاد کرنے کی ایک صورت یہ بھی جائز ہے کہ کوئی شخص یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد میر اغلام آزاد ہوگا ۔ مذکورہ بالا واقعہ میں جو روک پیدا ہوئی وہ ایک عارضی سبب سے تھی ۔ فقہاء نے اس صورت کو بھی قانونی شکل دی ہے کہ وارث ایسے آزاد کردہ غلام کی آزادی میں روک پیدا نہیں کر سکتے اور نہ وہ فروخت کیا جاسکتا ہے۔