صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 32 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 32

صحيح البخاری جلدم له ۳۲ ۳۴- كتاب البيوع رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ يُحْتَطِبَ سے سنا۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ مِنْ فرمایا: تم میں سے کوئی لکڑیاں کاٹ کر اپنی پیٹھ پر گٹھا لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے ، خواہ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ۔اطرافه: ١٤٧٠، ١٤٨٠، ٢٣٧٤ وہ اُسے دے یا نہ دے۔٢٠٧٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى :۲۰۷۵: سحي بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ وسیع حَدَّثَنَا وَكِيْعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ نے ہمیں بتایا۔ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ أَبِيْهِ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔وَسَلَّمَ: لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ۔۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں اطرافه: ۱٤۷۱، ۲۳۷۳ سے کسی ایک کا اپنی رسیاں لینا ( اور لکڑیاں باندھ کر لا نا سوال کرنے سے بہتر ہے۔) تشریح : كَسُبُ الرَّجُلِ وَعَمَلُهُ بِيَدِهِ : لفظ کسب یعنی کمائی کا مفہوم عام ہے۔دستکاری یعنی ہاتھ کا کام خاص ہے جیسے صنعت و حرفت عنوانِ باب میں جو جملہ اختیار کیا گیا ہے، اس میں خاص کا عطف عام پر ہے۔ذرائع کسب معاش کی اقسام اس باب میں بتائی گئی ہیں۔علامہ ماوردی نے کسب کی اصولا تین قسمیں بیان کی ہیں: صنعت، زراعت اور تجارت۔امام شافعی نے تجارت کو سب سے افضل قرار دیا ہے اور علامہ ماوردی کے نزدیک زراعت افضل ہے۔( فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۳۸۴) مگر افضلیت ایک نسبتی امر ہے جو تمدنی ضرورت اور مختلف اشخاص کے حالات سے تعلق رکھتی ہے اور کسی چیز کا افضل ہونا نہ ہو نا ضرورت و حالات پر موقوف ہے۔بعض ملک زمین کی نوعیت اور پانی کی فراوانی کے سبب زراعت کے مناسب ہیں اور بعض جغرافیائی حالت کے لحاظ سے صنعت و حرفت کے لئے موزوں ہیں۔اس باب کے تحت چھ روایتیں منقول ہیں۔پہلی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ تدبیر مملکت ایک اہم منصب ہے اور اس منصب سے متعلقہ فرائض کی ادائیگی اور ملکی نظم ونسق کا شغل کسب معاش کے لئے فرصت کا لمحہ نہیں چھوڑتے اور جو شخص اس منصب پر فائز ہو، اُس کی ذاتی ضروریات کو پورا کرنا بیت المال کا فرض ہے۔دوسری روایت میں صحابہ کرام کا ذکر ہے کہ وہ ہر قسم کا کام کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ قلبہ رانی اور آبپاشی کی خدمت اور قلیوں تک کے مشقت آمیز کام سے دریغ نہ کرتے تھے ، جس سے وہ پسینہ پسینہ ہو جاتے۔تیسری اور چوتھی روایتوں میں صنعت و حرفت کا ذکر ہے، جس کے لئے