صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 552
صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۵۲ ۴۹ - كتاب العتق وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ : إِيْمَانٌ سے پوچھا: کونسا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ پر بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيْلِهِ قُلْتُ : فَأَيُّ ايمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا: الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَعْلَاهَا ثَمَنًا گردنوں میں سے کون سی گردن آزاد کرنا بہتر ہے؟ وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا۔ قُلْتُ: فَإِنْ لَّمْ آپ نے فرمایا: وہ جو قیمت میں سب سے زیادہ ہو اور جو اپنے مالکوں کو زیادہ پسندیدہ ہو۔ میں نے کہا: اگر میں أَفْعَلُ؟ قَالَ: تُعِينُ صَائِعا أَوْ تَصْنَعُ یہ نہ کرسکوں؟ تو آپ نے فرمایا: ؟ تو آپ نے فرمایا: تو پھر کسی بے کار کی مدد لِأَخْرَقَ قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : تَدَعُ کر کے اسے با کار بنائے یا بے ہنر کو جو کم نہ سکے، کما کر النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَّدَّقُ مدد دے ۔ انہوں نے کہا: اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں تو بِهَا عَلَى نَفْسِكَ۔ آپ نے فرمایا: تو پھر لوگوں کو شر پہنچانے سے علیحدہ رہ کیونکہ یہ صدقہ ہوگا جو تو اپنے نفس کے لئے کرے گا۔ تشريح : أى الرِّقَابِ أفضل مذكورة الصدر تمہید میں حق کی فضیلت کا بیان من حیث العموم ہے اور اس باب میں بھی جہاں غلامی سے آزاد کرنے کی فضیلت کا مضمون خاص ہے۔ وہاں آنحضرت صہ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے حصہ جواب میں عشق کا عام مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے۔ تُعِينُ صَانِعًا ، تَصْنَعُ لَأَخْرَقَ، تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشر۔ بے کار شخص کی مدد کر کے اسے با کار بنائے یا ابلہ جسے سُدھ بُدھ نہیں ، اُس کی خاطر کاروبار کر کے اُس کا سہارا بنے یا کم از کم لوگوں کو شر سے محفوظ رکھے۔ غلاموں کی آزادی کے علاوہ لفظ عشق کا مفہوم مذکورہ بالا تین باتوں پر بھی حاوی ہے۔ کیا ہی جامع یہ مفہوم ہے! بَاب ٣ : مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْعَتَاقَةِ فِي الْكُسُوْفِ أَوِ الْآيَاتِ سورج گرہن یا دوسرے نشانات کے ظاہر ہونے پر غلام آزاد کرنا پسندیدہ ہے ٢٥١٩ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ :۲۵۱۹ موسیٰ بن مسعود نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ زائده بن قدامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ عروہ سے، ہشام نے فاطمہ بنت منذر سے،فاطمہ نے أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ قَالَتْ : أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتی تھیں: نبی ﷺ نے سورج گرہن کے وقت غلام حمد فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں لفظ ”ضَائِعًا" کی بجائے ”صَانِعًا" ہے۔ (فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۱۸۳)