صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 551 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 551

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۵۱ ۴۹ - كتاب العتق کی پہلی آیات میں قبل ہجرت جو آزادی کا فقدان اور ظلم کا دور دورہ تھا، اس کا نقشہ مج اور ظلم کا دور دورہ تھا، اس کا نقشہ مجمل مگر جامع الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔ فرماتا ہے : لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ أَيَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا ) ( البلد : ۲ تاے ) میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی بحالیکہ تو اس شہر میں حل کے طور پر ہے اور پیدا کرنے والے کی اور اس کی قسم جو اُس نے پیدا کیا۔ یقینا ہم نے انسان کو رہین محنت بنایا ہے۔ کیا وہ گمان کرتا ہے کہ اس پر کوئی بھی قابو نہیں پائے گا ؟ حل و حرم دو اصطلاحیں ہیں۔ حل وہ مقام ہے جہاں ہر قسم کی کھلی آزادی ہو اور حرم وہ جگہ جہاں عزت و آبرو، جان و مال حرام یعنی قابل عزت اور محفوظ ہو۔ اسی طرح حل نشانہ کو بھی کہتے ہیں۔ الْغَرَضُ الَّذِي يُرْمَى إِلَيْهِ وہ چیز جس پر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی ہے یعنی تختہ مشق ۔ اور حل کے معنی نازل ہونے والا ۔ دونوں ہی معنے یہاں مراد ہیں۔ تختہ مشق اور نازل ہونے والا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے بسی اور بے کسی کی شہادت پیش کی گئی ہے۔ جبکہ آپ مظالم کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھیوں پر ہر قسم کا ظلم و ستم توڑنے کی کھلی اجازت تھی اور پھر اس حالت کی بھی قسم کھائی گئی ہے جب آپ بطور فاتح اور ظفر مند اس شہر میں نازل ہونے والے اور اس فتح و ظفر کے جو نیک نتائج پیدا ہونے والے تھے وہ بھی بطور شہادت پیش کئے گئے ہیں۔ پہلے معنوں کی رُوسے وَالِدٌ وَمَا وَلَدَ سے مراد باپ یعنی حضرت خلیل اللہ ابراہیم اور ولد سے اُن کا موعود بیٹا مراد ہیں اور دوسرے معنوں کی رُو سے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بطور والد اور مَا وَلَدَ سے آپ کی ذریت طیبہ اور نیک نتائج مراد ہیں جن کے ذریعہ سے ظلم وجور اور فقر وفاقہ کا خاتمہ ہوگا۔ بے کسوں اور مفلوک الحال لوگوں کی سنی جائے گی۔ جان و مال، عزت و آبرو سارے عرب میں محفوظ ہوں گے۔ سلامتی ہر جگہ ڈیرا ڈالے گی ۔ امن کا پھر یرا پائمال دنیا پر لہرائے گا اور بنی نوع انسان کامل آزادی کا سانس لیں گے۔ کتاب العتق کی تمہید محولہ آیات اور مندرجہ بالا حدیث کے بعد ایک اعلیٰ درجہ کے عملی نمونہ کا حوالہ دے کر وسیع معنوں میں اٹھائی گئی ہے۔ ان آیات کی تشریح کے لئے تفسیر کبیر جلد ۸- تفسیر سورۃ البلد - صفحہ ۶۲۱ تا ۶۲۳ دیکھئے۔ جس میں فَى رَقَبَةٍ کا مضمون بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ بَاب ٢ : أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ گردنوں میں سے کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے ٢٥١٨ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ۲۵۱۸ عبید اللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مُوسَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ عَنْ أَبِي ذَرِّ رَضِيَ الله نے ابی مراوح سے، انہوں نے حضرت ابوذر غفاری) عَنْهُ قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ﷺ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ