صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 553
صحيح البخاری جلدم ۵۵۳ ۴۹ - كتاب العتق بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ تَابَعَهُ آزاد کرنے کا حکم دیا۔موسیٰ کی طرح علی بن مدینی) عَلِيٌّ عَنِ الدَّرَاوَرْدِي عَنْ هِشَامٍ۔نے ( عبد العزیز بن محمد ) دَرَادَردی سے ، دَرَاوَردی نے ہشام سے یہ حدیث نقل کی۔۔اطرافه: ٨٦، ١٨٤، ٩٢٢، 1053، 1054، 1061، 1135، ۱۳73، ۲۰۲۰، ۷۲۸۷۔٢٥٢٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ :۲۵۲۰ محمد بن ابی بکر ( مقدمی ) نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا عَمَّامٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ فَاطِمَةَ عام نے ہم سے بیان کیا۔ہشام نے ہمیں بتایا کہ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے، فاطمہ نے حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: كُنَّا نُؤْمَرُ عِنْدَ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کی۔الْخُسُوْفِ بِالْعَتَاقَةِ۔کہتی تھیں : سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا ہمیں حکم دیا جاتا تھا۔اطرافة: ٨٦ ۱٨٤، ۹۲۲، ۱۰۵۳، ۱۰٥٤، ۱۰۶۱، ۱۲۳۵، ۱۳۷۳، ۲۰۱۹، ۷۲۸۷ تشریح : مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْعَتَاقَةِ فِي الْكُسُوفِ أَوِ الْآيَاتِ : خسوف وسوف ، لازل اور قحط وغیرہ حوادث کے موقعوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کی آزادی کے لئے جو تحریک فرمائی اس سے سینکڑوں غلام لونڈیاں آزاد ہو ئیں۔یہ ایسے مواقع ہیں جن سے انسان میں بالطبع خشیت الہی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ نیکی کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔جامع صحیح بخاری میں جابجا ایسے آزاد شدہ غلاموں کے نام راویوں کی فہرست میں آئے ہیں جنہوں نے آزاد ہونے کے بعد نہایت عالیشان علمی، ادبی اور ملی خدمات انجام دیں۔اس تعلق میں کتاب الکسوف تشریح بابا بھی دیکھئے۔الفاظ كُنَّا نُؤْمَرُ عِندَ الْحُسُوفِ بِالْعَتَاقَةِ کا مفہوم عنوان باب سے واضح کیا ہے کہ یہ مستحب تھا جس کی تعمیل طوعی اور اختیاری تھی۔روایت نمبر ۲۵۱۹ کے آخر میں علی بن مدینی کی روایت کا حوالہ دیا گیا ہے علی بن مدینی امام بخاری کے شیخ ہیں۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۸۶) بَاب ٤ : إِذَا أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَ اثْنَيْنِ أَوْ أَمَةً بَيْنَ الشُرَكَاءِ اگر کوئی ایسے شخص کو جودو شخصوں کا مشترکہ غلام ہو یا ایسی عورت کو جو کئی شریکوں کی مشترکہ لونڈی ہو آزاد کر دے ٢٥٢١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۲۵۲۱ علی بن عبد اللہ (مدینی ) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَالِمٍ عَنْ که سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو