صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 544
صحيح البخاری جلدم ۴۸ - كتاب الرهن ٢٥١٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل :۲۵۱۲ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ عَنْ عبد الله بن مبارک ) نے ہمیں خبر دی کہ ذکریا نے الشَّعْبِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ہمیں بتایا۔انہوں نے شعمی سے، شعمی نے حضرت قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس جانور پر وَسَلَّمَ : الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ جو رہن ہو، سواری کی جائے کیونکہ اس کو چارہ دینے پر وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا خرچ کیا جاتا ہے اور اسی طرح دودھ والا جانور بھی جو كَانَ مَرْهُونًا وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ رہن ہو، دوہا جائے کیونکہ اس کے چارہ پر بھی خرچ کیا جاتا ہے اور جو شخص سواری کرے اور جو جانور کا دودھ وَيَشْرَبُ النَّفَقَةُ۔طرفه: ٢٥١١ پیٹے ، اس کے ذمہ اس کے چارے کا خرچ ہو گا۔تشریح : الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَ مَحْلُوبٌ : عنوان باب کے الفاظ ایک حدیث کے ہیں جو حا کم کمانے حضرت ابو ہریرہ سے بسند اعمش مرفوعا نقل کی ہے۔اس باب کا موضوع متعین کرنے کی غرض سے ابراہیم مخفی کے فتوے کا حوالہ دیا ہے جو سعید بن منصور سے منقول ہے اور حماد بن ابی سلیمان سے بھی ان الفاظ میں مروی ہے: اِذَا ارْتُهِنَ شَاةٌ شَرِبَ الْمُرْتَهِنُ مِنْ لَّبَنِهَا بِقَدَرٍ ثَمَنِ عَلَفِهَا فَإِن اسْتَفْضَلَ مِنَ اللَّبَنِ بَعْدَ ثَمَنِ الْعَلفِ فَهُوَ رِبًا۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۷۸) یعنی اگر بکری بطور رہن لے تو چارہ اسے کھلائے اور اس کی قیمت کے اندازے سے اس کا دودھ استعمال کرے اور اس قیمت سے زائد دودھ اگر استعمال کرے تو یہ سود ہوگا۔ابن عدی نے الکامل ہے میں اور دار قطنی سے اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابو ہریرہ سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ الله الرَّهْنُ مَعْلُوبٌ وَمَرْكُوبٌ۔یعنی رہن شده جانور پر سواری بھی کی جائے اور اُس کا دودھ بھی دوہا جائے۔(عمدہ القاری جز ۱۳۰ صفحہ اے ) رہن شدہ چیزوں سے استفادہ کے بارے میں جمہور کا فتویٰ ہے کہ اُس سے فائدہ نہ اُٹھایا جائے۔چونکہ یہ رہن قرض کے مقابل میں قرض ہے۔جو فائدہ اُٹھایا جائے گا وہ سود ہوگا اور احادیث میں جو استفادہ کی اجازت دی گئی ہے، وہ دراصل اُس خرچ کے عوض میں ہے جو مرتہن کو چارہ وغیرہ کھلانے پر کرنا پڑتا ہے۔شریعت اسلامیہ کا حکم حُرِّمَ كُلُّ قَرْضِ (المستدرک علی الصحيحين كتاب البيوع، الرهن محلوب ومركوب، جزء ۲ صفحه ۶۷ ، روایت نمبر ۲۳۴۷) الكامل في ضعفاء الرجال من اسمه ،ابراهیم ابراهیم بن محشر بن معدان، جزء اول صفحه ۲۷۴) سنن الدارقطني، كتاب البيوع، جزء۳ صفحه ۳۴ سنن الكبرى للبيهقى، كتاب الرهن، باب ماجاء فى زيادات الرهن، جزء ۲ صفحه ۳۸