صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 545 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 545

☆ ۵۴۵ صحيح البخاري - جلد ۴ ۴۸ - كتاب الرهن جَرَّ مَنْفَعَةٌ ۔ * یعنی ہر وہ قرض ممنوع ہے جو نفع کا موجب ہو، مرتہن کو اس رہن سے جو کسی قرضے کی ضمانت - رضے کی ضمانت کے لئے دیا گیا ہو، فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۷۸، ۱۷۹) (عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحہ ۷۳ ) اس سے مراد وہ قرضہ ہے جس کے نتیجہ میں سو د لیا جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ نے در حقیقت اسلامی معاشرہ کے افراد کو تعاون علی البر کی تلقین کی ہے اور قرض حسنہ کا طریق پسند کیا ہے اور اس سے مودت و تعاون کی روح پیدا ہوتی ہے اور اخوت کی گر ہیں مضبوط ہوتی ہیں۔ رہن سے صرف اسی صورت میں فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے جہاں قرض واپس نہ ملنے کا احتمال ہوا اور مرہونہ شئے محفوظ رہ سکتی ہو تا راہن اور مرتہن دونوں نقصان سے بچیں۔ اسلام کی ساری تعلیم محبت واحسان پر مبنی ہے۔ اسی وجہ سے سودی قرضے کو یکسر قلمزن کر دیا ہے کہ وہ محبت کے منافی ہے اور قرضہ حسنہ کا طریق کہ شفقت علی خلق اللہ ہے اس کو جاری کیا ہے۔ امام اوزاعی ، لیث اور ابی ثور رحمہم اللہ تعالیٰ نے محولہ بالا احادیث کو مشروط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر راہن جانور کے چارہ وغیرہ کا خرچ نہ کرے تو مرتہن اس کے اخراجات برداشت کرے اور خرچ کے مطابق اس سے فائدہ اٹھائے ۔ بعض فقہاء نے استفادہ کے لئے رہن کرنے والے کی اجازت ضروری قرار دی ہے۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ امْرِيءٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ۔ (بخارى، كتاب في اللقطة، روایت نمبر ۲۴۳۵) یعنی کوئی کسی آدمی کا مویشی بغیر اُس کی اجازت نہ دو ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عام ہے لیکن رہن کی صورت اس سے مختلف ہے۔ مرتین راہن کا اس کی مملوکہ شئے میں رہن کی حالت میں قائم مقام ہوتا ہے اس لئے وہ مرہون جانور کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہوگا۔ اور اگر تلف ہونے میں اس کی غفلت ثابت ہو تو راہن کا نقصان پورا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ اس لئے امام احمد بن حنبل واسحاق وغیرہ نے فائدہ اٹھانے کی اجازت اس شرط سے دی ہے : إِذَا قَامَ بِمَصْلِحَتِهِ وَلَوْ لَمْ يَأْذَنُ لَهُ الْمَالِكُ لَه مرتین مرہونہ شئے کی دیکھ بھال اور نگرانی کرے خواہ را ہن اجازت دے یا نہ دے۔ امام ابن قیم اور امام ابن تیمیہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ اگر فائدہ اٹھانے کی اجازت نہ دی جائے تو گویا مرتہن پر صرف چھٹی ہی ہو گی کہ قرض بھی دے اور جانور پر بھی خرچ کرے جو اس کے نیک سلوک کے منافی ہے اور آیت هَلْ جَزَاءُ الإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَان (الرحمن: (۶) کے بھی خلاف ہے۔ چنانچہ یہ امر مسلم ہے کہ اگر قرض خواہ کی خواہش کے بغیر قرضدار ادائیگی کرتے وقت اپنی خوشی سے اصل زر سے زیادہ دے تو یہ سود نہ ہوگا ۔ ( تشریح کتاب الاستقراض باب ۴ و باب ۷ ) اسی طرح اگر راہن کی اجازت کے بغیر مرتهن رہن سے فائدہ اٹھاتا ہو تو یہ جائز ہے کہ وہ اُس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ اس لئے ان فقہاء کے نزدیک ایسا استفادہ سود نہ ہوگا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ سود کی حرمت کے بعد اس قسم کا رہین منسوخ ہے لیکن یہ خیال صرف احتمال ہی ہے۔ تاریخ سے ثابت نہیں۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۷۹،۱۷۸) غرض اس فقہی اختلاف کے پیش نظر یہ باب قائم کیا گیا ہے اور اس میں عامر شعمی کی روایت بسند حضرت ابو ہریرہ پیش کی گئی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے ان کی صرف یہی ایک روایت ہے یا اس کے علاوہ تفسیر سورۃ الزمر شرح معانی الآثار، كتاب البيوع، باب استقراض الحيوان، جزء ۴ صفحه ۶۰)