صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 30
صحيح البخاری جلدم باب ١٥ : كَسْبُ الرَّجُلِ وَعَمَلُهُ بِيَدِهِ آدمی کا کمانا اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا ۳۴- كتاب البيوع ٢٠٧٠ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيْلُ بْنُ عَبْدِ ۲۰۷۰ اسماعیل بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا، اللهِ حَدَّثَنِي عَلِيُّ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ ) کہا : ( علی بن وہب نے مجھے بتایا۔انہوں نے یونس عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔انہوں الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ قَالَتْ: لَمَّا اسْتَخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ الصِّدِّيقُ قَالَ: لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ ہوئے تو انہوں نے فرمایا: میری قوم کو علم ہی ہے کہ میرا پیشہ ایسا نہ تھا کہ جس سے میں اپنے گھر والوں کی حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ تَعْجِزُ عَنْ مَنُوْنَةِ أَهْلِي خوراک مہیا نہ کر سکتا۔مگر اب میں مسلمانوں کے کام وَشُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَسَيَأْكُلُ آلُ میں مشغول ہو گیا ہوں۔سو ابوبکر کے اہل وعیال اب أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَاَحْتَرِفُ بيت المال سے کھائیں گے اور وہ ( ابوبکر ) مسلمانوں لِلْمُسْلِمِيْنَ فِيْهِ۔کے لئے اس مال میں کاروبار کرے گا ( اور تجارت سے ان کا مال بڑھاتا رہے گا۔) ۲۰۷۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ ۲۰۱ محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن یزید اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيْدٌ قَالَ: حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔سعید ( بن ابی ایوب) نے ہم سے أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ : قَالَتْ بیان کیا، کہا کہ ابو اسود نے مجھے بتایا کہ عروہ سے مروی عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : كَانَ أَصْحَابُ ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ عُمَّالَ أَنْفُسِهِمْ فَكَانَ يَكُوْنُ لَهُمْ اپنے کام خود کرتے اور اُن سے پسینے کی بو آتی تو اُن أَرْوَاحٌ فَقِيْلَ لَهُمْ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ۔سے کہا گیا: اگر تم نہالیا کرو تو اچھا ہے۔عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ بخترِف“ ہے۔(عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۱۸۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔