صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 29
صحيح البخاری جلد ۴ ۲۹ ۳۴- كتاب البيوع وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حضرت انس سے مروی ہے۔ اس کی دوسری سندیوں حَوْشَبِ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ أَبُو الْيَسَعِ ہے: اور محمد بن عبداللہ بن حوشب نے مجھ سے ، مجھ سے بیان کیا الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ که اسباط ابوالیسع بصری نے ہمیں بتایا کہ ہشام دستوائی قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَشَى نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے، انہوں إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ نبی شَعِيْرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور کچھ چربی جو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعًا له بودار تھی لائے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ مدینہ میں اپنی بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ يَهُودِي وَأَخَذَ مِنْهُ زرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھ کر اس سے اپنے نے انہیں شَعِيْرًا لِأَهْلِهِ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ : مَا گھر والوں کے لیے جو جو لائے تھے۔ اور میں نے أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (حضرت انس کو ) یہ کہتے سنا کہ حضرت محمد صلی اللہ وَسَلَّمَ صَاعُ بُرٍ وَلَا صَاعُ حَبِّ وَإِنَّ علیہ وسلم کی آل کے پاس ایک صاع گندم یا ایک عِنْدَهُ لَتِسْعَ نِسْوَةٍ۔ طرفه ٢٥٠٨۔ صاع کسی غلے کا شام تک نہیں رہا جبکہ آپ کے پاس نو بیویاں تھیں۔ تشريح : شِرَاءُ النَّبِي عَل بِالنَّسِينَة : خرید وفروخت میں اگر ادائیگی کے لئے نق قیمت ن ہو تو کیا الرادا -------- صورت اختیار کی جائے؟ اس بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق عمل دور وایتیں نقل کر کے بتایا گیا ہے کہ رہن رکھے، تا تاجر مطمئن رہے۔ ایک روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اور دوسری روایت حضرت انس کی ہے جو دو سندوں سے مروی ہے۔ ایک سند ابو الیسع بصری ابن عبد الواحد اسباط کی ہے۔ صحیح بخاری میں ان کی یہی ایک روایت ہے۔ دوسری سند سے اس سند کو تقویت دی گئی ہے۔ اس تعلق میں باب ۳۳ روایت نمبر ۲۰۹۶ کی تشریح بھی دیکھئے۔