صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 539
صحيح البخاری جلدم ۵۳۹ باية الحلال ٤٨- كِتَابُ الرَّهْن بَابِ ١ : فِي الرَّهْنِ فِي الْحَضَرِ بحالت اقامت رہن رکھنے کا بیان ۴۸- كتاب الرهن وَقَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ كُنتُم اور اللہ عزوجل کے اس ارشاد کا ذکر : اگر تم سفر میں عَلَى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهُنَّ ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن با قبضہ ہی کافی صه ہوگا۔مقْبُوضَةٌ﴾ (البقرة: ٢٨٤) :٢٥٠٨ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۲۵۰۸ مسلم بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ہشام حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ (دستوائی) نے ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : وَلَقَدْ رَهَنَ رَسُولُ بتایا۔انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعَهُ بِشَعِيْرِ روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَمَشَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اپنی زرہ جو کے عوض گرو رکھی تھی اور میں نبی وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيْرٍ وَإِهَالَةٍ سَبِحَةٍ۔صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور بودار چربی لے کر گیا اور میں نے آپ کو یہ کہتے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس صبح وشام کے لئے سوا ایک صاع ( اناج ) کے اور کچھ نہیں، بحالیکہ وہ نو (۹) وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا أَصْبَحَ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا صَاعٌ وَلَا أَمْسَى وَإِنَّهُمْ لَتِسْعَةُ أَبْيَاتٍ۔گھر ہیں (حیرت ہے۔) طرفه: ٢٠٦٩۔تشریح : فِي الرَّهْنِ فِي الْحَضَرِ : رهن کے لغوی منی میں الحبس کسی چیز کو رک رکھنا۔قرآن مجید میں آتا ہے: كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ ( المدثر :۳۹) ہر نفس رہن شدہ ہے اس عمل کا جو اُس