صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 540 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 540

صحيح البخاری جلدم ۵۴۰ ۴۸- كتاب الرهن نے کمایا ہے۔یعنی جب تک اعمال کا نتیجہ نہیں بھگت لیتا چھٹکارا نہیں پاسکتا۔رہن کا یہ لغوی مفہوم ہے۔شرعی اصطلاح میں قرض کے عوض میں مال گرو رکھنا۔جب تک قرض ادا نہ ہو جائے ، مال مرہو نہ مرتہن کا رہے گا۔گرو کر دہ مال کو بھی دھن کہتے ہیں۔اس کی جمع رھون اور دکان ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحه ۶۷) (لسان العرب - رهن) فقہاء نے صحت رہن کی چند شرطیں تجویز کی ہیں: اوّل: كُلُّ مَا جَازَ بَيْعُهُ جَازَ رَهْنُهُ۔یعنی ہر شئے جو قابل فروخت ہو قابل رہن ہے۔جس شئے کا فروخت کرنا نا جائز ہے اُس کا رہن بھی نا جائز ہے مثلاً نا پاک اور حرام اشیاء جیسے شراب و خنزیر وغیرہ ہیں۔ان کا فروخت کرنا جائز نہیں۔اس لئے یہ رہن بھی نہیں کی جاسکتیں۔اسی طرح وقف شدہ جائیداد بھی رہن نہیں کی جاسکتی۔دوم : قابل رہن شئے بعینہ موجود ہو۔مثلاً قرض جو راہن (یعنی رہن کرنے والے) کو کسی سے لیتا ہو، وہ رہن نہیں رکھا جاسکتا کیونکہ حاصل ہونے سے پہلے پہلے اس کا کوئی وجود نہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ مرہونہ شئے کا ایسا وجود ہو جو قرض کی واپسی تک محفوظ رکھا جا سکے۔سوم : تیسری شرط را بن و مرتهن کی صلاحیت و اہلیت اور ان کی رشد و بلوغت ہے۔بچے اور مجنون کا رہن لینا دینا تسلیم نہیں کیا جائے گا۔عنوان باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں رہن بحالت سفر کا ذکر ہے۔اس تعلق میں جو روایت زیر باب درج ہے اس میں ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقیم ہونے کی حالت میں زرہ رہن رکھ کر اناج ادھار پر لیا۔بعض فقہاء مثل ضحاک اور مجاہد اور اہل ظاہر نے آیت محولہ بالا سے استنباط کیا ہے کہ رہن کی مشروعیت صرف سفر کی حالت میں کتابت سے مقید ہے۔اس کے بغیر رہن جائز نہیں۔جمہور کے نزدیک رہن بحالت سفر و حضر ہو سکتا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۷۴۱۷۳) ( بداية المجتهد ، كتاب الرهون، جزء ثانی صفحه ۲۰۴ تا ۲۰۶) ط ط ط اس مشار الیہ استدلال کی کمزوری ظاہر کرنے کی غرض سے یہ باب قائم کیا ہے۔محولہ بالا آیت احکام قرض کے تعلق میں وارد ہوئی ہے۔جس کا اصل موضوع یہ ہے کہ معاملات لین دین میں تحریر ، شہادت اور میعاد واپسی وغیرہ کی تعیین ضروری امور ہیں۔اس ضمن میں فرمایا: وَإِنْ كُنتُمُ عَلى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَنٌ مَّقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَةِ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللهَ رَبَّهُ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمُهَا فَإِنَّهُ الِم قَلْبُهُ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیمٌ o (البقرۃ : ۲۸۴) اور اگر تم سفر میں ہو اور تمہیں کوئی لکھنے والا نہ ملے تو ( اسکا قائم مقام ) رہن با قبضہ ہے۔پس اگر تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو امین جانے اور اسے کچھ رقم دے دے تو جسے امین سمجھا گیا ہو اسے چاہیے کہ امانت رکھنے والے کی امانت کو (عند الطلب) واپس کر دے اور اپنی ربوبیت کرنے والے اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور تم گواہی کو کبھی مت چھپاؤ اور جو اسے چھپائے گا وہ یقیناً ایسا شخص ہے جس کا دل گنہ گار ہے اور یا درکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔