صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 538
صحيح البخاری جلدم ۵۳۸ ۴۷ - كتاب الشركة رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ جانور ہوتے ہیں جو سدھائے نہیں جاسکتے جیسے جنگلی لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ جانوروں میں ہوتے ہیں۔اس لئے جو اُن میں سے تمہیں مجبور کر دے تو اس سے اسی طرح کیا کرو۔فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوْا بِهِ هَكَذَا۔(یعنی تیر سے گرالو عبایہ ) کہتے تھے: میرے دادا نے قَالَ: قَالَ جَدِي يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّا کہا: يا رسول اللہ ! ہم امید کرتے ہیں یا (کہا: ) ہمیں نَرْجُوْ أَوْ نَخَافُ أَنْ تَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا اندیشہ ہے کہ کل دشمن سے ہماری مٹھ بھیٹر ہوگی اور وَلَيْسَ مَعَنَا مُدَّى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ ہمارے پاس چھریاں نہیں ( اور اگر تلواروں کو استعمال کیا تو وہ گند ہو جائیں گی ) تو کیا ہم بانس کے سرکنڈے فَقَالَ اعْجَلْ أَوْ أَرْنِي مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوْا لَيْسَ جلدی سے کرو یا (فرمایا: ) جو چیز بھی جلدی خون السِّنَّ وَالظُّفَرَ وَسَأَحَدِتُكُمْ عَنْ بہارے ، اس سے ذبح کر لو اور جس پر اللہ کا نام لے لیا ذَلِكَ : أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ جائے، اسے کھالو۔دانت اور ناخن سے نہیں اور میں تمہیں اس کی وجہ بتا تا ہوں۔دانت جو ہے تو وہ ہڈی فَمُدَى الْحَبَشَةِ۔وغیرہ سے جانور ذبح کرلیں؟ آپ نے فرمایا: ( ذبح) ہے اور ناخن جو ہیں وہ حبشیوں کی چھریاں ہیں۔اطرافه: ۲۸۸، ۳۰۷۵، ٥٤۹۸ ٥٥٠٣، ٥٥٠٩،٥٥٠٦، ٥٥٤، ٥٥٤٤ تشریح: مَنْ عَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ فِى الْقَسْمِ: يہ حديث كتاب الشركة باب ۳ روایت نمبر ۸ ۲۴۸ میں گزر چکی ہے اور کتاب الذبائح میں بھی منقول ہے۔دس بکریوں کا ایک ایک اونٹ کے برابر انداز وہ زمانہ نبوی سے تعلق رکھتا ہے اور اب اندازہ آج کل کے نرخ سے ہوگا۔اس لئے امام موصوف نے جملہ شرطیہ کا جواب مقدر کر دیا ہے۔