صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 526 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 526

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۲۶ ۴۷- كتاب الشركة الْأُخْرَى: وَتَرْغَبُونَ اَنْ تَنْكِحُوهُنَّ جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو۔ حضرت عائشہ يَعْنِي هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ لِيَتَيْمَتِهِ کہتی تھیں: اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: الَّتِي تَكُوْنُ فِي حَجْرِهِ حِيْنَ تَكُوْنُ تم دلی خواہش رکھتے ہو کہ تم انہی سے نکاح کرو۔ اس سے مراد ایسی یتیم لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش قَلِيْلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا ہے جو تم میں سے کسی کی نگرانی میں ہو جبکہ وہ مال اور أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغَبُوا فِي خوبصورتی کم رکھتی ہو تو چونکہ وہ انہیں پسند نہیں کرتے، مَالِهَا { وَجَمَالِهَا * } مِنْ يَتَامَى اس لئے ان یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ ان کو منع کیا گیا ہے، جن کے مال اور خوبصورتی کی رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ۔ وجہ سے وہ نکاح کرنے کی خواہش کرتے ہیں، سوائے اس کے کہ ان سے انصاف کریں۔ اطرافه: ٢٧٦٣ ، ٤٥٧٣، ٤٥٧٤ ، ٤٦٠٠، ٥٠٦٤ ، ۵۰٩٢، ۵۰۹۸، ۵۱۲۸، 513۱، 5140، 6965۔ تشريح : شَرِكَةُ الْيَتِيمِ وَأَهْلِ الْمِيْرَاثِ : قباء کاس امر را تا ہے کہ نیم کے سرمایہ جائیداد وغیرہ اشیاء میں مشارکت جائز نہیں ، بجز اس کے کہ اس سے فائدہ کی صورت یقینی ہو ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۶۴) اگر ضائع ہونے کا احتمال ہو تو ان میں مشارکت قرآن مجید کے نص صریح کے خلاف ہے۔ مندرجہ بالا روایت میں حضرت عائشہ نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے، وہ یہ ہے: وَاتُوا الْيَتَامَى اَمْوَالَهُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَمَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَثَ وَرُبَعَ ، فَإِنْ خِفْتُمُ الَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا ( النساء (۴۳) تیموں کو ان کے مال دو اور عمدہ مال کے بدلے میں رڈی مال نہ لو اور ان کے مال اپنے مالوں سے ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ یقینا بہت بڑا گناہ ہے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں اُن سے نکاح کرو۔ (یعنی غیر یتیم عورتوں سے نکاح کرلوں ) دو دو، تین تین اور چار چار ہے۔ اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی عورت سے یا ان (لونڈیوں) سے جو تمہارے ہاتھوں میں ہیں۔ یہ طریق اس بات کے بہت قریب ہے کہ تم ظلم سے بچو۔ یہ آیت تفصیل طلب ہے ۔ تَعُولُوا ، عَالَ ، يَعُوُلُ ، عَوْلًا وَعَيْلًا وَعِيَالًا وَعِيَالَةً سے فعل مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے۔ لفظ عال اضداد میں سے ہے اور اس کے تین معنی ہیں ۔ (۱) عَالَ اَمْرُ الْقَوْمِ اشْتَدَّ وَاضْطَرَبَ وَ تَفَاقَمَ یعنی قوم خستہ حال ہو گئی ، اُس کے لئے تشویشناک صورت حالات پیدا ہو گئی اور وہ نہایت مضطرب ہو گئے ۔ ان معنوں کی رُو لفظ " وَ جَمَالِهَا» فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۱۲۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔