صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 526
صحيح البخاری جلدم ۵۲۶ ۴۷ - كتاب الشركة خْرَى وَتَرْغَبُونَ اَنْ تَنْكِحُوهُنَّ جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو۔حضرت عائشہ يَعْنِي هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ لِيَتِيْمَتِهِ کہتی تھیں: اور دوسری آیت میں اللہ تعالی کا یہ فرمانا: الَّتِي تَكُوْنُ فِي حَجْرِهِ حِيْنَ تَكُونَ تم ولی خواہش رکھتے ہو کہ تم انہی سے نکاح کرو۔اس سے مراد ایسی یتیم لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش قَلِيْلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا ہے جو تم میں سے کسی کی نگرانی میں ہو جبکہ وہ مال اور أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي خوبصورتی کم رکھتی ہو تو چونکہ وہ انہیں پسند نہیں کرتے، مَالِهَا { وَجَمَالِهَا * مِنْ يَتَامَى اس لئے ان یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ ان کو منع کیا گیا ہے، جن کے مال اور خوبصورتی پر کی وجہ سے وہ نکاح کرنے کی خواہش کرتے ہیں، رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ۔سوائے اس کے کہ ان سے انصاف کریں۔اطرافه : ٢٧٦٣ ، ٤٥٧٣، ٤٥٧٤ ، ٤٦٠٠، ٥٠٦٤، ۵۰۹۲، ۵۰۹۸، ۵۱۲۸، ٥١٤٠،٥۱۳۱، ٦٩٦٥۔تشریح : شَرِكَةُ الْيَتِيمِ وَأَهْلِ الْمیران تارا کا سارا پاتا ہے کہ یتیم کے مایہ جائیداد وغیرہ اشیاء میں مشارکت جائز نہیں ، بجز اس کے کہ اس سے فائدہ کی صورت یقینی ہو۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۶۴) اگر ضائع ہونے کا احتمال ہو تو ان میں مشارکت قرآن مجید کے نص صریح کے خلاف ہے۔مندرجہ بالا روایت میں حضرت عائشہ نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے، وہ یہ ہے: وَاتُوا الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَأكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى اَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَمَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنى وَثُلكَ وَرُبعَ ، فَإِنْ خِفْتُمُ الَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أدْنَى أَلَّا تَعُولُوا (النساء :۴۳) قیموں کو ان کے مال دو اور عمدہ مال کے بدلے میں روی مال نہ لو اور ان کے مال اپنے مالوں سے ملا کر نہ کھاؤ۔یہ یقینا بہت بڑا گناہ ہے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم تقیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں اُن سے نکاح کرو۔(یعنی غیر یتیم عورتوں سے نکاح کر لو۔) دو دو، تین تین اور چار چار سے۔اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی عورت سے یا ان (لونڈیوں) سے جو تمہارے ہاتھوں میں ہیں۔یہ طریق اس بات کے بہت قریب ہے کہ تم ظلم سے بچو۔یہ آیت تفصیل طلب ہے۔تَعُولُوا عَالَ، يَعُولُ، عَوْلًا وَعَيْلًا وَعِيَالًا وَعِبَالَةً سے فعل مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے۔لفظ عال اضداد میں سے ہے اور اس کے تین معنی ہیں۔(۱) عَالَ آمُرُ الْقَوْمِ: اشْتَدَّ وَاضْطَرَبَ وَتَفَاقَمَ یعنی قوم خستہ حال ہو گئی ، اس کے لئے تشویشناک صورت حالات پیدا ہوگئی اور وہ نہایت مضطرب ہو گئے۔ان معنوں کی رُو عمل لفظ " وَ جَمَالِهَا» فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۱۶۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔