صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 527 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 527

صحيح البخاري - جلدم ۵۲۷ ۴۷ - كتاب الشركة سے آیت ذلِكَ أَدْنَى الَّا تَعُولُوا کا مفہوم یہ ہے کہ ارشاد الہی پر عمل کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قوم کی مصیبت کم ہو جائے گی اور وہ خستہ حالی اور پریشانی سے محفوظ رہے گی۔(۲) عَالَ يَعُولُ عِيَالًا کے دوسرے معنی ہیں : كَثُرَ عِمَالُهُ۔اس کی عیال داری زیادہ ہوگئی اور عَالَ الْمِیزَان کے معنی ہیں: نَقَصَ۔وزن میں کم دیا۔خان : خیانت کی۔ان معنوں کی رُو سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کنبہ زیادہ ہو جائے اور بوجھ نہ سنبھالا جا سکے۔یعنی اگر عدل قائم نہ رکھ سکو فَوَاحِدَةً تو پھر ایک ہی بیوی سے عقد نکاح کرو۔ذلک اذدْنى إِلَّا تَعُولُوا أَى لَا تَخُونُوا یہ بات زیادہ قریب ہوگی کہ تم اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں خیانت نہیں کرو گے۔(۳) عَالَ يَعُولُ کے تیسرے معنی ہیں بیواؤں اور یتیموں کا کفیل ہونا اور ان کی محتاجی دُور کرنا ( اقرب الموارد عول) (لسان العرب - عول ) ان کا بوجھ قوم کے افراد پر تقسیم ہونے سے نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری محتاجی دور ہوگی۔سورۃ النور آیت ۳۳ میں وعدہ فرماتا ہے : اِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ۔اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔غرض عمال کا لفظ جو اضداد میں سے ہے، ان سب معانی پر حاوی ہے۔محولہ بالا آیت میں یتیم کے ساتھ شرکت فی المال کی ممانعت کی گئی ہے اور یتیم لڑکی کو بذریعہ نکاح رفیقہ حیات بنانا بھی منع ہے لیکن ان دونوں قسم کی شرکتوں میں استثنائی صورت بھی موجود ہے۔زمانہ جاہلیت کے حریص لوگ یتیموں کے مالوں میں مختلف حیلوں سے شراکت پیدا کر کے اسے خرد برد کر لیا کرتے تھے۔اگر یتیم لڑ کی خوبصورت ہوتی تو اس پر چادر ڈال دی جاتی جس سے سمجھا جاتا کہ اپنے کفیل کی منکوحہ ہے اور اگر خوبصورت نہ ہوتی تو دوسری جگہ بھی اس کا نکاح نہ ہونے دیا جاتا کہ اس کا مال کسی اور (یعنی شوہر) کے قبضہ میں نہ چلا جائے۔شریعت اسلامیہ نے قیموں کے حقوق کی حفاظت کے لئے ایسی شراکت کا راستہ بند کر دیا ہے اور ایسا نکاح بھی نا جائز قرار دیا ہے۔اسلامی حکومت جو رعایا کے حقوق کی نگران ہے، اس کا فرض ہے کہ شریعت اسلامی کے قانون کی پابندی کرائے۔قاضی کو اختیار ہے کہ جہاں ایسی ظالمانہ شراکت کی صورت ہو، اسے نسخ کر دے اور اگر نکاح ہو چکا ہو تو ایک آزاد خو بر دعورت کا زیادہ سے زیادہ جو حق مہر عرف عام میں ثابت ہو، اس کو وہ دلایا جائے۔ثُمَّ اِنَّ النَّاسَ اسْتَفتوا : یہ روایت بھی مذکورہ بالا سند سے ہے۔اس میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ یہ ہے: وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ * وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَحْمَى النِّسَاءِ الَّتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ اَنْ تَنْكِحُوهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَنْ تَقُومُوا لِلْيَتَمَى بِالْقِسْطِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا (النساء : ۱۲۸) اور لوگ تم سے ایک سے زیادہ عورتوں سے نکاح ) کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں۔تو (ان سے) کہہ دے کہ اللہ تمہیں ان کی بابت اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پڑھ کر سنایا جاتا ہے؛ وہی جو ان یتیم عورتوں سے متعلق ہے جنہیں تم ان کے مقرر کردہ حق نہیں دیتے مگر ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو اور جو کمزور بچوں کی بابت بیان ہو چکا ہے اور تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ تیموں سے متعلقہ معاملے میں انصاف کی پابندی کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو تو یقینا اللہ اس سے خوب واقف ہے۔اس آیت میں سابقہ آیت ہی کا حوالہ دیا گیا ہے اور دونوں کا مضمون ایک ہے۔