صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 524
صحيح البخاری جلد ۴ 2 صلى الله ۵۲۴ ۴۷- كتاب الشركة امام ابو حنیفہ اور دیگر ائمہ اور اکثر فقہاء نے تقسیم بذریعہ قرعہ اندازی جائز قرار دی ہے۔ یہ طریق قدیم سے رائج رہا ہے۔ قرآن مجید حضرت یونس علیہ السلام کے ذکر میں فرماتا ہے : فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ۔ (الصافات: ۱۴۲) تب انہوں نے کشتی کے باقی سواروں سے اسے مل کر) قرعہ رعہ اندازی کی اور ان کے نام کا قرعہ نکلنے پر وہ بھی پھینکے گئے۔ پھینکے گئے ۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت علی بوقت سفر قرعہ اندازی کرتے اور جو سفر قرعہ اندازی کرتے اور جس بیوی کے نام کا قرعہ نکلتا ؛ وہ آپ کے ہم سفر ہوتی تھیں۔ (کتاب الشهادات باب ۱۵ روایت نمبر ۲۶۶۱) اور حضرت ام العلاء سے مروی ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں انصار نے مہاجرین کو اپنے پاس ٹھہرانے کے لئے قرعے ڈالے تو حضرت عثمان بن مظعون کا قرعہ نکلا کہ وہ ہمارے پاس رہیں گے۔ (روایت نمبر ۷ ۲۶۸) اس ثابت شدہ سنت نبوی کے پیش نظر مشار الیہ فقہاء کا قیاس درست نہیں کہ قرعہ اندازی بذریعہ تیر کی رسم کا تعلق صرف مشرکانہ عقائد سے تھا، جس کی وجہ سے یہ بھی فسق اور رجس والی باتوں میں شمار کی جائے۔ عمدة القاری جزء ۱۳۰ صفحه ۵۶) علامہ عینی نے قاضی اسماعیل کا قول بھی نقل کیا ہے کہ اگر زمین یا مکان میں چند شریک ہوں تو وہ اس کی قیمت کا اندازہ کریں اور پھر قرعہ ڈار اور پھر قرعہ ڈالیں۔ جس کے نام قرعہ نکلے ! ، اسے وہ چیز دیں اور دیں اور قیمت بحصہ رسدی باقی شرکاء میں تقسیم کریں۔ لَيْسَ فِي الْقُرْعَةِ إِبْطَالُ شَيْءٍ مِنَ الْحَقِّ ۔ قرعہ اندازی سے کوئی حق باطل نہیں ہو جاتا کہ یہ ممنوع قرار دی جائے بلکہ جھگڑا ختم ہوتا ہے۔ (عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحہ ۵۶) باب ۷ : شَرِكَةُ الْيَتِيمِ وَأَهْلِ الْمِيْرَاثِ یتیم کا ان لوگوں کے ساتھ شریک ہونا جو وراثت کے مستحق ہیں ٢٤٩٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۲۴۹۴: عبدالعزیز بن عبدالله عامری اویسی نے عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيُّ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ اب سے إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنِ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ روایت کی۔ (انہوں نے کہا: ) عروہ نے مجھے بتایا کہ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا۔ وَقَالَ اللَّيْثُ : انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔ اور لیٹ نے بھی کہا: یونس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ قَوْلِ اللهِ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے تَعَالَى: وَإِنْ خِفْتُمْ إِلَى وَرُبعَ میں پوچھا: وَإِنْ خِفْتُم (حضرت عائشہ نے) کہا: