صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 522 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 522

صحيح البخاری جلدم ۵۲۲ ۴۷- كتاب الشركة تشریح: تَقْوِيمُ الْأَشْيَاءِ بَيْنَ الشَّرَكَاءِ بِقِيْمَةِ عَدْلٍ: ائمہ اور فقہاء کا اس امر پر تو اتفاق ہے کہ مال و اسباب کی قیمت کا اندازہ کرنے کے بعد شریکوں کے درمیان اس کی تقسیم جائز ہے مگر قیمت کا اندازہ کئے بغیر تقسیم کرنے کے بارے میں اختلاف ہے۔اکثر فقہاء کے نزدیک اگر شر کا ء راضی ہوں تو بغیر اندازہ کئے تقسیم جائز ہوگی۔مگر امام شافعی کے نزدیک یہ رضامندی والی صورت تقسیم بھی جائز نہیں کیونکہ اس میں کمی بیشی کا احتمال ہے اور ان کا استدلال حضرت ابن عمر کی مذکورہ بالا حدیث نبویہ سے ہے کہ غلام یا لونڈی میں شریک شخص اپنا متعلقہ حصہ واگزار کرنے کا مجاز ہے بشرطیکہ قیمت کا اندازہ کر کے باقی شریکوں کو ان کا حصہ دے کر پورے طور پر اسے آزاد کرائے۔یہ حدیث نص صریح ہے۔باقی اشیاء کا قیاس اسی امر پر کیا جا سکتا ہے کہ شریک بغیر اندازه قیمت مشتر کہ شئے میں تصرف کرنے کا مجاز نہیں، تا وقتیکہ اس کے باقی شریک رضامند نہ ہوں۔یہ مضمون کتاب العتق میں زیر باب: إِذَا أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَ اثْنَيْنِ بھی آئے گا۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۶۳) مَنْ اَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ عَبْدِ اَوْ شِركًا اَوْ قَالَ نَصِيبًا : مذکورہ بالا روایت بالمعنی ہے یعنی راوی کو یہ یاد نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ کے لئے عربی لفظ شقص فرمایا تھا۔یا شرک یا نَصِيب۔شخص کے معنی حصہ کے ہیں خواہ کم ہو یا زیادہ۔بعض اہل لغت کے نزدیک تھوڑے حصہ کو شقص اور شقیص کہتے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۵۱) یعنی حصہ تھوڑا ہو یا بہت اس کی قیمت کا اندازہ کرنا ضروری ہے۔بَاب ٦ : هَلْ يُقْرَعُ فِي الْقِسْمَةِ وَالإِسْتِهَامِ فِيْهِ کیا تقسیم اور حصہ نکالنے میں قرعہ ڈالا جائے؟ ٢٤٩٣: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۲۴۹۳: ابونعیم نے ہمیں بتایا کہ ذکر یانے ہم سے بیان زَكَرِيَّاءُ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرًا يَقُولُ: کیا۔انہوں نے کہا: میں نے عامر (شعبی) سے سنا۔سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيْرِ رَضِيَ الله کہتے تھے۔میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ نہما سے عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نا۔وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔آپ نے فرمایا: سنا۔جو شخص اللہ کی حدوں پر قائم ہوا اور وہ شخص جس نے قَالَ: مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُوْدِ اللَّهِ ان حدوں سے تجاوز کیا ان کی مثال ان لوگوں کی مثال وَالْوَاقِعِ فِيْهَا كَمَثَلِ قَوْمِ اسْتَهَمُوا ہے جنہوں نے ایک کشتی میں قرعہ ڈال کر جگہ بانٹ لی۔عَلَى سَفِينَةٍ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا ان میں سے بعض کو او پر کا درجہ ملا اور بعض کو نیچے کا۔تو وَبَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا فَكَانَ الَّذِيْنَ فِي وہ لوگ جو اس کشتی کے نچلے درجہ میں تھے جب پانی أَسْفَلِهَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاءِ مَرُّوا لینا چاہتے ان لوگوں کے پاس سے گزرتے جو او پر