صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 521 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 521

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۲۱ ۴۷- كتاب الشركة نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابن عمر الله سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ وَسَلَّمَ : مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ عَبْدٍ أَوْ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی غلام میں اپنا تھوڑا سا حصہ یا صلى الله فرمایا:) اپنی شراکت یا فرمایا: اپنا حصہ (چھوڑ کر اُسے) شِرْكًا أَوْ قَالَ نَصِيبًا وَكَانَ لَهُ مَا آزاد کر دے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو منصفانہ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ بِقِيْمَةِ الْعَدْلِ فَهُوَ عَتِيقٌ وَإِلَّا قیمت کے لحاظ سے اس غلام کی ساری قیمت کے برابر فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ۔ ہو تو وہ پورا آزاد ہوگا۔ اگر اتنا مال نہ ہو تو وہ غلام اس قدر آزاد تو بہر حال ہو چکا جتنا اس نے آزاد کر دیا ہے۔ قَالَ: لَا أَدْرِي قَوْلُهُ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ (ایوب نے) کہا: میں نہیں جانتا کہ حدیث کا یہ فقرہ " قَوْلٌ مِنْ نَافِعٍ أَوْ فِي الْحَدِيْثِ عَنِ وہ غلام اس قدر آزاد تو بہر حال ہو چکا جتنا اس نے آزاد کر دیا ہے نافع کا نافع کا قول ہے یا نبی ﷺ کی حد یہ عليه حديث النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ میں ہی ایسا ہے۔ اطرافه ٢٥٠٣ ، ٢٥٢١، ٢٥٢٢، ٢٥٢٣، ٢٥٢٤، ٢٥٢٥، ٢٥٥٣۔ ٢٤٩٢: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۴۹۲: بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي (مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ سعید بن ابی عروبہ نے ہمیں عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے نضر بن انس سے، نضر نے بشیر بن نہیں سے، بشیر نے حضرت ابو ہریرہ عَنْ بَشِيْرِ بْنِ نَهِيْكِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنے مشترکہ غلام وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شَقِيْضًا مِنْ سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو حصہ آزاد کر دے تو اُس کے ذمہ ہے کہ وہ مَّمْلُوْ كِهِ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ فِي مَالِهِ فَإِنْ لَّمْ اپنے مال سے اسے پورے طور پر آزاد کرائے ۔ اگر اس يَكُن لَّهُ مَالٌ قُومَ الْمَمْلُوْكَ قِيْمَةَ عَدْلٍ کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی منصفانہ قیمت لگائی ثُمَّ اسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوْقٍ عَلَيْهِ۔ جائے۔ پھر اس سے محنت مزدوری کروائی جائے لیکن ایسی نہ ہو جس کا وہ متحمل نہ ہو سکے ۔ پھر وہ اس مزدوری سے اپنی باقی قیمت ادا کر دے اور آزاد ہو جائے۔ اطرافه: ٢٥٠٤، ٢٥٢٦، ٢٥٢٧۔