صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 519
صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۱۹ ۴۷- كتاب الشركة ۲۴۸۸ تشریح : قِسْمَةُ الغنم : بکریوں کی قسم کا یہ وقت بھی ایک غزوہ سےتعلق رکھتا ہے جیسا کہ روایت نمبر ۲۸ کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ کل ہمیں دشمن کے حملہ کا اندیشہ ہے۔ مقام ذو الحلیفہ جس کا یہاں ذکر ہے وہ جگہ نہیں جو مدینہ کے قریب واقع ہے اور اہل مدینہ کے لئے میقات حج ہے بلکہ وہ مقام ہے جو تہامہ میں ذات عرق کے قریب واقع ہے۔ ابن التین کے نزدیک مشار الیہ واقعہ غزوہ حنین کے موقع پر ۸ھ کو پیش آیا تھا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحہ ۴۶) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوازن قبائل کی تیاری کا علم ہوا تو آپ نے ایک دستہ فوج بطور ہر اول بھیجا تھا۔ اس واقعہ میں بھی مجاہدین کو برابر حصہ دیا گیا سوائے ایک پلوٹھے کے جو بیچ رہا اور سپر د کار تقسیم کنندہ کو دیا گیا۔ دیکھئے کتاب الوكالة روایت نمبر ۲۳۰۰۔ یہ شراکت از قسم ملکیت ہے جس کا حق شریعت نے تسلیم کیا ہے۔ سپہ سالار کی اجازت کے بغیر مجاہد کے لئے جائز نہیں کہ خود بخود اپنا یہ حق لے ۔ مذکورہ بالا واقعہ باب ۱۶ روایت نمبر ۷ ۲۵۰ میں بھی مذکور ہے اور کتاب الذبائح اور کتاب الجہاد میں بھی اس کی بعض تفصیلات آئیں گی۔ فَأَصَابُوا إِبِلًا وَ غَنَما : ابن ماجہ کی ایک روایت میں فَانْتَهَبْنَاهَا“ کا لفظ ہے۔ بعض شارحین کا خیال ہے کہ اس لفظ سے پایا جاتا ہے کہ بکریاں وغیرہ لوٹی گئی تھیں جس کی وجہ سے ہانڈیاں الٹوائی گئیں۔ یہ استنباط درست نہیں بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ مال غنیمت تقسیم سے قبل استعمال میں لایا گیا۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحہ ۴۶) اس تعلق میں کتاب المظالم باب ۳۰ کی تشریح بھی دیکھئے۔ أَمَّا السِّنُّ فَعَظُمْ وَ أَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ : مُدَى، مُدْيَةٌ کی جمع ہے۔ جس کے معنے چُھری کے ہیں۔ حبشیوں کی تمدنی حالت بہت پست تھی۔ وہ چھری وغیرہ کے استعمال سے نا آشنا تھے۔ اس لیے اپنے ناخن بڑھا کر ان سے چھری کا کام لیتے تھے جس سے جانور کو تکلیف ہوتی ۔ شہ رگ کو ناخن سے پھاڑ دیتے اور خون بہنے پر جانور مر جاتا اور پھر وہ اُسے کھاتے۔ اس طریق سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ ناخنوں کی طرح دانتوں کو بطور چھری استعمال کرنا بھی ایسا ہی ہے جیسے ہڈی سے ذبح کیا جائے ۔ عرب لوگ ایام جاہلیت میں ہڈیوں اور پتھروں سے چھری کا کام لیتے تھے۔ اس سے بھی آپ نے منع فرمایا کہ جانوروں کو تکلیف نہ ہو۔ یہ شفقت علی خلق اللہ کا بہترین سبق ہے۔ اس تعلق میں عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۴۷ تا ۴۹ بھی دیکھئے۔ بَاب ٤ : الْقِرَانُ فِي التَّمْرِ بَيْنَ الشُّرَكَاءِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ شریکوں کے درمیان ہوتے ہوئے دو دو کھجوریں کھانا درست نہیں جب تک کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت نہ لے لے ٢٤٨٩: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى :۲۴۸۹ خلاد بن یحی نے ہمیں بتایا کہ سفیان نے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمِ ہم سے بیان کیا کہ جبلہ بن تمیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں ابن ماجه، کتاب الفتن باب النهي عن النهبة)