صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 515
صحيح البخاری جلدم ۵۱۵ ۴۷- كتاب الشركة صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَتَنْحَرُ ساتھ عصر کی نماز پڑھتے اور پھر اونٹ ذبح کرتے اور جَزُورًا فَتَقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ فَنَأْكُلُ وہ دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا اور ہم سورج غروب لَحْمًا نَّضِيْبًا قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ہونے سے پہلے پکا ہوا گوشت کھاتے۔٢٤٨٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ :۲۴۸۶ محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا، (کہا) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ عَنْ که حماد بن اسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے برید أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ سے، برید نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ ابوموسی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ الْأَشْعَرِيْنَ إِذَا أَرْمَلُوْا فِي الْغَزْو أَوْ قَلَّ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اشعری قبیلہ کے لوگ جب لڑائی طَعَامُ عِبَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوْا مَا كَانَ میں محتاج ہو جاتے یا مدینہ میں اُن کے بال بچوں کی عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبِ وَاحِدٍ ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ خوراک کم ہو جاتی تو جو کچھ زاد اُن کے پاس ہوتا ایک ہی کپڑے میں اکٹھا کر لیتے۔پھر وہ آپس میں ایک برتن سے اسے برابر برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔وہ میرے بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَّاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ۔ہیں اور میں ان کا ہوں۔ریح: الشَّرِكَةُ فِى الطَّعَامِ وَالنَّهْدِ وَالْعُرُوضِ : عنوان باب میں الفاظ طَعَامِ، نَهْدِ، عُرُوض اور مَكِيْل وَمَوزُون اور سونے چاندی کا ذکر کر کے شراکت کی ان قسموں کی طرف اشارہ کیا ہے جو ما بہ النزاع ہیں۔یعنی ان کے متعلق فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔نھد یا نهد اُس بحصہ رسدی امداد کو کہتے ہیں جو قبیلہ کے افراد دشمن کے مقابلہ کے لئے بصورت تعاون کرتے ہیں۔مصالحت کے موقع پر بھی مشتر کہ دعوت کی غرض سے جو امداد افراد کی طرف سے دی جائے ، اُسے بھی نھد کہتے ہیں۔اس سے فعل نَهَدَ نَاهَدَ اور تَنَهْدَ آتا ہے۔اسی طرح کہتے ہیں: طَرَحَ نِهْدَهُ مَعَ الْقَوْمِ قوم کے ساتھ مدد میں اپنا حصہ ڈالا۔فہد اس تو شے کو بھی کہتے ہیں جو رفقائے سفر اکٹھا کھانا کھاتے وقت دستر خوان پر لائیں۔( اقرب الموارد- نه ) امدادی چندے اور توشے والی شراکت شرکت کی ایک ادنی صورت ہے۔اس میں ضروری نہیں ہوتا کہ فلاں اس قدر لائے اور اس قدر کھائے اور بوقت تقسیم بھی ایک عام انداز ملحوظ رکھا جاتا ہے۔اسی کی طرف عنوان باب میں جملہ كَيْفَ قِسْمَةً مَا يُكَالُ وَيُوزَنُ مُجَازَفَةً سے اشارہ کیا ہے۔عُرُوض جمع ہے عرض کی۔جس کے معنے ہیں سامان یعنی نقدی کے مقابلہ میں سامان دے کر شراکت کرنا۔وَكَذَلِكَ مُجَازَفَةُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ۔مُجَازَفَة کے معنے ہیں کسی چیز کا معین اندازہ نہ کرنا بلکہ عام اندازہ کرنا۔(عمدۃ القاری جز ۳۰ صفحه ۴۱،۴۰)