صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 516
صحيح البخاری جلدم ۵۱۶ ۴۷ - كتاب الشركة لِمَا لَمْ يَرَ الْمُسْلِمُونَ فِى النَّهْدِ بَأْسًا: جب شرکت تعاون کی صورت میں ہو تو تقسیم بھی ایک عام اندازے سے ہوگی۔سونے یا چاندی اور درہم و دینار کی شرکت بصورت تعاون اکٹھی کی جاسکتی ہے اور ان کی تقسیم بھی دونوں طرح سے جائز ہے۔عام اندازے یا معین حساب سے۔مُجَازَفَة کی اس صورت کا تعلق تعاونی شرکت سے ہے۔جو بھید کی تعریف کے تحت آتی ہے۔اس میں نقدی اور سامان کی تقسیم بھی ضرورت کے مطابق کی جاسکتی ہے۔وَالْقِرَانُ فِي التَّمر : شرکاء کی اجازت سے کوئی شریک دو دو کھجوریں بھی کھا سکتا ہے ، خواہ یہ اجازت صریح ہو یا مفہوم جہاں آپس میں بے تکلفی ہو۔اس تعلق میں باب ہم بھی دیکھئے۔اس باب کے تحت چار روایتیں ہیں۔پہلی روایت کا تعلق غزوۃ الخبط کے واقعہ سے ہے۔۸ھ میں زیر قیادت حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ایک مہم ساحل سمندر کی طرف بھیجی گئی۔جس میں تین سو انصار و مہاجرین شریک ہوئے۔سامان خوراک ختم ہو گیا۔یہاں تک کہ انہیں جنگلی درختوں کے خشک پتے کھانے پڑے اور اسی وجہ سے اس کا نام غزوۃ الخبط مشہور ہوا۔خبط کے معنے ہیں درخت کے پتے جو جھاڑے جائیں۔اس جنگ کی تفصیل کتاب المغازی باب ۶۵ میں ملاحظہ ہو۔قلت خوراک کے باعث بھد کے طریق پر پہلے انتظام کیا گیا تھا۔دوسری روایت کا تعلق بھی ایک غزوہ سے ہے۔جس میں قبیلہ ہوازن کی گوشمالی کے لئے ایک دستہ فوج بھیجا گیا۔خوراک ختم ہونے پر حضرت سلمہ بن الاکوع نے ارادہ کیا کہ اونٹ ذبح کر کے خوراک کا انتظام کریں مگر حضرت عمر کے مشورے پر نھد کے طریق سے زاد راہ جمع کر کے خوراک تقسیم کی گئی اور جن صحابہ کے پاس کچھ نہیں تھا انہیں بھی دی گئی۔أَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَانِى رَسُولُ الله : اس سے یہ مراد نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی وحدانیت پر ایمان اور اپنی رسالت کا یقین واقعہ مذکور سے پہلے کچھ کم تھا اور اس کے بعد پورا ہو گیا اور اگر آپ کا ایمان اور یقین کامل نہ تھا تو مکی زندگی کی مصیبتیں کیوں جھیلیں۔یہ امر نہیں بلکہ یہ فقرہ بطور اظہار شکر گزاری ہے کہ لوگوں کی تکلیف دور ہوئی اور طریق نھد میں ضرورت مندوں نے بقدر کفایت لیا اور اس پر قناعت کی اور کسی نے بخل و حرص سے کام نہیں لیا۔صحابہ کرام کے نفوس میں یہ تبدیلی تو حید ورسالت کی برکت ہی سے ہوئی تھی۔اور یہ بھی کہ ان نشانات کو دیکھ کر مجھے خدائی کا درجہ نہ دینا؟ خدا وہی ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ برکت جو میرے ذریعہ ظاہر ہوئی ہے یہ خدا کا نمائندہ اور رسول ہونے کی وجہ سے ہے۔بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے واقعات میں صحابہ نے اخوت و شفقت اور تعاون علی البر اور اعلیٰ اخلاق کا قابل رشک نمونہ دکھایا۔انتہائی تکلیف کی حالت میں کسی سے مدد مہیا ہو جانا اور نیک خلق کا اظہار بھی بہت بڑی بات ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل عہد شکور کا دل تھا؛ جو اپنے معبود کی آن پر فدا ہونے والا تھا۔فَهُمْ مِنِى وَأَنَا مِنْهُمُ : چوتھی روایت میں قبیلہ اشعری کے دستور کا ذکر ہے کہ انہیں اگر قلت خوراک کا اتفاق ہوتا تو وہ طریق نہد پر اپنی خوراک کا انتظام کرتے تھے۔ان کی اس نیک خصلت نے ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت قریب کر دیا تھا اور آپ نے ان کا ذکر کر کے فرمایا: فَهُمْ مِنِّی وَاَنَا مِنْهُمْ میں اور وہ ایک ہی ہیں۔اس فقرے سے