صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 512
صحيح البخاری جلدم ۵۱۲ ۴۷- كتاب الشركة کہ ایک نے دوسرے کو استفادہ میں شریک کیا ہے۔جس میں نہ اس کی محنت کا تعلق ہے نہ مال کا۔اور یہ بھی معلوم نہیں کہ کاروبار میں اُس کی ذمہ داری کا کتنا حصہ یا دخل ہے۔چوتھی قسم شراکت الا بدان ہے۔شرکت الا بدان امام شافعی " کے نزدیک قطعی طور پر باطل ہے۔مثلا پیشہ ور اور کاریگری مزدور پیشہ افراد مجھوتہ کریں کہ ہم فلاں مشترکہ کام کریں گے اور جو آمد ہوگی وہ ان میں برابر تقسیم ہوگی۔انہوں نے یہ شرکت اس لئے ناجائز قرار دی ہے کہ ہر شخص اپنے ذہنی اور بدنی قوی میں مختلف ہے اور اس لئے ان کی محنت کا بدلہ برابر نہیں ہوسکتا کوئی تھوڑا کام کرتا ہے کوئی بہت۔کسی کے کام میں پختگی ہوتی ہے اور کسی کے کام میں خامی۔جنگل سے ایندھن مہیا کرنے والا کوئی زیادہ ایندھن حاصل کرتا ہے اور کوئی کم۔اس لئے ان کی شراکت کسی صحیح معیار پر قائم نہیں ہو سکتی اور یہ شرکت الا بدان جائز نہیں۔امام مالک کے نزدیک صرف صنعت کے کاموں میں شرکت الا بدان جائز ہے۔امام ابوحنیفہ نے ایسی شرکت علی الاطلاق جائز قرار دی ہے۔شرکتۃ العنان کے بارے میں سب ائمہ کا اتفاق ہے کہ وہ جائز ہے۔خواہ وہ اجناس کی شرکت ہو یا ان اشیاء کی ، جو از قسم مُتَقَوِمات ہوں۔مُتَقَوم کے معنے ہیں جس کی قیمت کا بآسانی اندازہ کیا جا سکے۔اس کی جمع مُتَقَوّمات ہے۔ایسے ہی وہ اشیاء جو مالی اور تو لی جاسکتی ہیں۔ایسی اشیاء جو قیمت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے قابل تمیز ہوں، ان میں شرکت کی صورت محفوظ ہوتی ہے اور جن اشیاء کی مخصوص صورت نہ ہو، اُن میں شرکت امام شافعی کے نزدیک جائز نہیں۔( كفاية الاخيار، كتاب البيوع، فصل في الشركة، جزء اول صفحه ۲۷۱-۲۷۳) ان اقسام کی تفصیل کیلئے بداية المجتهد جزء ۲ صفحہ ۱۸۹ تا ۱۹۲دیکھئے۔بَاب ١ : الشَّرِكَةُ فِي الطَّعَامِ وَالنَّهْدِ وَالْعُرُوْضِ کھانے پینے اور زادِ راہ اور مال و اسباب میں شراکت وَكَيْفَ قِسْمَةُ مَا يُكَالُ وَيُوْزَنُ اور جو چیزیں ماپی اور تو لی جائیں ان میں تقسیم کیسے ہو؟ مُجَازَفَةً أَوْ قَبْضَةٌ قَبْضَةً لِمَا لَمْ يَرَ یونہی اندازے سے ڈھیر لگا کر یا ہاتھ کی مٹھی سے؟ کیونکہ الْمُسْلِمُوْنَ فِي النَّهْدِ بَأْسًا أَنْ يَأْكُلَ مسلمانوں نے زاد راہ کی شراکت میں کوئی حرج خیال هَذَا بَعْضًا وَهَذَا بَعْضًا وَكَذَلِكَ نہیں کیا؛ اس طرح کہ کچھ یہ کھائے کچھ وہ کھائے۔اسی طرح سونے کو چاندی کے بدلے اور چاندی کو مُجَازَفَةُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْقِرَانُ فِي سونے کے بدلے تولنے بانٹنے میں۔نیز دو دو کھجوریں ملا کر کھانے میں بھی ( کوئی حرج خیال نہیں کیا۔) الثمر۔٢٤٨٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۴۸۳ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ وَهْبِ بْن كَيْسَانَ کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے وہب بن کیسان