صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 511
صحيح البخاری جلدم ۵۱۱ بدالله الحالي ٤٧ - كِتَابُ الشَّرِكَةِ 0000000000 ۴۷ - كتاب الشركة تمہید: شركة کے لغوی معنے ہیں حصہ داری اور شرعی اصطلاح میں دو یا دو سے زائد اشخاص کا کسی شئے میں حق جو کسی وجہ سے پیدا ہوا ہو؛ وراثت یا ہمسائیگی یاباہمی سمجھوتے یا آپس میں اکٹھا فائدہ اُٹھاتے رہنے کی وجہ سے شرکة کہلاتا ہے۔اور ہر حصہ دار کو شریک بھی کہتے ہیں اور خلیط بھی۔(عمدۃ القاری جز ۳۰ صفحه ۴۰) اول الذکر معنوں میں قرآن مجید فرماتا ہے: لا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِى السَّمواتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكِ وَ مَا لَهُ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِيرٍ O (سبا:۲۳) معبودانِ باطلہ آسمانوں اور زمین میں ایک چھوٹی چیونٹی کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں اور نہ زمین و آسمان کی ملکیت میں اُن کی کوئی شراکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مددگار ہے۔اور دوسرے معنوں میں فرماتا ہے: وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ (ص:۲۵) یقینا بہت سے شر کا ء ایسے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں سوائے ان کے جو مومن ہیں اور ایمان کے مطابق عمل کرتے ہیں۔شرکت و خلطت کے فرق کے لئے تشریح کتاب الزکوۃ باب ۳۵ دیکھئے۔شرکت ایک عقد ہے جو دو طریق سے قائم ہوتا ہے۔باہمی سمجھوتے سے اور بغیر سمجھوتے کے اور یہ شرکت دو قسم کی ہے۔ایک شرکت ملک یعنی کسی شئے پر دو سے زیادہ اشخاص کو مالکانہ تصرف حاصل ہو؛ ذاتی ملکیت سے یا بطور وراثت یا از روئے بیچ و ہبہ وغیرہ۔ایسی شراکت میں حق استفاده بقدر ملکیت شریک ہوگا۔ایک شریک دوسرے کے حصے سے فائدہ اُٹھانے کا صرف اس بناء پر مجاز ہوگا کہ شراکت ہے۔دوسری قسم شراکت عقد جو باہمی سمجھوتے سے قرار پائے۔شرکت العنان بھی اسی قسم سے ہے؛ جس میں دونوں شریک بلحاظ تصرف و استفادہ و خسارہ اپنے اپنے حق کے مطابق حصہ دار ہوں گے اور انہیں اس شراکت کو فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔عنان کے معنے ہیں لگام۔جس طرح لگام کے دو حصے ایک جیسے برابر ہوتے ہیں۔اسی طرح سمجھوتے کی شرکت میں شرکاء برابری کا حق رکھتے ہیں۔ایک شرکت کا نام شِرْكَةُ الْمُفَاوَضَة بھی ہے۔مُفَاوَضَة کے معنے ہیں ایک دوسرے سے بات چیت کر کے معین شرائط پر شرکت کرنا۔مثلاً مویشوں میں شرکت اس سمجھوتے پر ہو کہ دودھ ونسل میں برابر کے حصے دار ہوں گے۔ایک تیسری قسم وہ ہے جس کا تعلق ذمہ داری کی وجہ سے ہوتا ہے، نہ مال میں حصہ دار ہے نہ صنعت میں محض ذمہ داری کی بناء پر کوئی شخص دوسرے کے کاروبار میں شریک ہو جائے۔امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک ایسی شراکت باطل ہے۔ان کے نزدیک شراکت کے لیے ضروری ہے کہ مال ہو یا عمل۔ایسی شراکت جس میں نہ مال کا حصہ ہو نہ عمل کا ، جائز نہیں، بلکہ اس میں غرر کی صورت ہے